ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاکپتن کے ایمر جنسی وارڈ کے ڈاکڑوں اور سٹاف کی مبینہ غفلت کے نتیجہ میں ایک شخص محمد امیر ہلاک

ورثاء کا نعش سڑک پر رکھا ہسپتال کے سامنے روڑ بلاک کرکے شدید مظاہرہ

اتوار جون 16:10

پاکپتن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاکپتن کے ایمر جنسی وارڈ کے ڈاکڑوں اور سٹاف کی مبینہ غفلت کے نتیجہ میں ایک شخص محمد امیر ہلاک ہو گیا ،ْورثاء کا نعش سڑک پر رکھا ہسپتال کے سامنے روڑ بلاک کرکے شدید مظاہرہ۔تفصیلات کے مطابق چک 37-SPکے رہائشی محمد امیر ولد سردار کو اچانک طبیعت خراب ہونے پر ریسکیو 1122کا عملہ گاڑی میں ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاکپتن کے ایمر جنسی وارڈ میں لایا ورثاء نے بار بار اپنے مریض کو چیک کرنے کے لئے ڈاکڑوں اور سٹاف سے رابطہ قائم کیا۔

لیکن ان کے مریض کو چیک نہ کیا گیا ڈاکڑوں اور سٹاف کی مبینہ غفلت ان تشویش ناک حالت میں مریض محمد امیر ولد سردار وفات پا گیا۔ وفات پاجانے مریض محمد امیر ولد سردار کے ورثاء نے لاش ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاکپتن سامنے کے ہسپتال روڑ سڑک بلاک کرکے احتجاجی مظاہر ہ کیا اور ہر قسم کی ٹرییفک جام کر دی۔

(جاری ہے)

متوفی محمد امیر ولد سردار کے بیٹے جہانگیر کا کہنا ہے کہ ایمر جنسی وارڈ کے سٹاف نے اس کے محروم والد کی فائل غائب کردی اور خالی لفافہ ان کو دے دیا تمام ثبوت غائب کر دئیے تاکہ ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہ ہو سکے۔

ورثاء نے سپریم کورٹس کے چیف جسٹس ثاقب نثار سے کاروائی کی اپیل کی ہے۔ ایم ایس ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاکپتن ڈاکڑ امان اللہ خان نے کہا ہے اس واقعہ کی تحقیقات کی جائے گی اور اس میں ملوث عملہ کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

متعلقہ عنوان :