بھارت بار بار سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے‘ کا لا باغ ڈیم کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی ،انجمن تاجران لاہور

اتوار جون 16:20

لاہور۔3 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) انجمن تاجران لاہور کے صدر میاں طارق فیروز اور جوائنٹ سیکرٹری میاں سلیم نے کہا ہے کہ بھارت بار بار سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ ورلڈ بینک کیجانب سے پاکستان کے موقف کی تائید نہ کرنا کالا باغ ڈیم کو فوری بنانے کی دلیل کو مزید مضبوط کرتا ہے ، ایک نجی تقریب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میاں سلیم نے کہا کہ کا لا باغ ڈیم کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی ،اگرآج کالا باغ ڈیم نہ بنا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہ کریں گی۔

انہوں نے کہاکہ کالا باغ ڈیم 5سال کی قلیل مدت میں اپنی پراڈکشن دے سکتا ہے اور پہلے 5سال میں اس ڈیم پر کی گئی سرمایہ کاری واپس آجائے گی جبکہ ہر سال 6 ارب ڈالر کی سالانہ بچت ہوگی،،کالا باغ ڈیم سے صوبوں کو نقصان کی بجائے صرف فائدہ ہوگا ،،سندھ اور کے پی کے کو اپنے حصے سے زیادہ پانی ملے گا ،،سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچا جا سکتا ہے جبکہ 63 کلو میٹر پر محیط برفانی گلیشئرز کا اربوں روپے کا پانی بھی محفوظ کر کے آبپاشی اور زراعت کے کام میں لایا جا سکتا ہے ۔

(جاری ہے)

میاں سلیم نے کہاکہ کالا باغ ڈیم میں 8 لاکھ کیوسک فٹ پانی ذخیرہ کرنے صلاحیت ہے جبکہ 6 لاکھ کیوسک فٹ قابل استعمال پانی جمع کیا جا سکتا ہے،اس سے 3600 میگا واٹ بجلی بنائی جا سکتی ہے جو کہ ساڑھے 4 روپے فی یونٹ کاسٹ کرے گی جس سے چاروں صوبے استفادہ حاصل کریں گے جبکہ انڈس ڈیلٹا کی سیم زدہ 20 لاکھ ایکڑ زمین بھی قابل کاشت ہو جائے گی ،،سندھ کو 2.2ملین کیوسک فٹ مزید پانی ملے گا جبکہ کے پی کے کا 3 لاکھ ایکڑ رقبہ مزید کاشت ہوگا اور بلوچستان کا 7 لاکھ ایکڑ فٹ رقبہ قابل کاشت ہوگاجبکہ 1991 اور 1996 کی مشترکہ مفادات کونسل اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کالا باغ ڈیم کی فوری تعمیر ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 1992 ء میں ورلڈ بینک اور دنیا بھر کے آبی انجینئرز کالا باغ ڈیم کو سٹیٹ آف دی آرٹ کا درجہ دے چکے ہیںجبکہ بھارت کی گو د میں بیٹھ کر کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے ملک دشمن ہیں۔انہوں نے کہاکہ سستی بجلی کے حصول کے دیگر ذرائع سے بھی استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے جس میں تھر کول پاور پراجیکٹ ، ایٹمی پاور پلانٹ سے ، شمسی توانائی سے ، ہواسے ونڈ پاور، جانوروں کے گوبر سے اور کوڑا کرکٹ سے بھی بجلی کا سستا حصول ممکن ہے ۔