محصولات عائد ہونے کی صورت میں تجارتی معاہدہ نہیں ہوگا،چین کاامریکہ کو انتباہ

امریکی وزیر تجارت کی قیادت میں وفد کی چینی نائب وزیر اعظم سے ایک اور ملاقات،چین نے اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا

اتوار جون 16:20

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) چین نے امریکہ کو تنبیہ کی ہے کہ اگر امریکہ نے تعزیرات اور محصولات میں اضافہ کرنے کی دھمکی پر عمل درآمد کیا تو واشنگٹن کے ساتھ تجارتی تنازع کو حل کرنے کے لیے ہونے والی بات چیت موثر نہیں ہوگی۔میڈیارپورٹس کے مطابق اتوار کو یہ بیان امریکہ کے وزیر تجارت ولبر راس کی قیادت میں وفد کی چین کے اعلیٰ اقتصادی امور کے عہدیدار نائب وزیر اعظم لیو ہی سے ایک اور ملاقات کے بعد سامنے آیا جس میں چین کے اس عہد پر بات ہوئی جس کے مطابق بیجنگ زیادہ امریکی اشیا ء خرید کر امریکہ کے ساتھ تجارتی عدم تواز ن کم کر سکتا ہے۔

چین کے بیان میں کہا گیا کہ فریقوں نے مثبت اور ٹھوس پیش رفت کی ہے تاہم ان میں سے کسی نے بھی اس بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا کہ اگر امریکہ نے محصولات میں اضافے سمیت تعزیرات کو عائد کیا تو دونوں فریقوں کے درمیان (اب تک) حاصل ہونے والی اقتصادی اور تجارتی کامیابیاں موثر نہیں رہیں گی۔راس نے کہا کہ امریکہ اور چینی عہدیداروں نے مخصوص امریکی برآمدی اشیا کے بارے میں بات کی ہے جو چین نے امریکہ کے ساتھ تجارتی عدم تواز ن کو کم کرنے کے لیے خریدنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

چین اور امریکہ نے رواں اختتام ہفتہ بیجنگ میں مذاکرات کا نیا دور شروع کیا جس کا مقصد باہمی تجارتی تنازع کو حل کرنا ہے۔راس نے اتوار کو چین کے اقتصادی امور کے اعلیٰ عہدیدار لیو سے ملاقات کے آغاز پر کسی بھی قسم کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔ تاہم چین کے نمائندے نے مئی کے وسط میں واشگنٹن میں ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقات کے بعد واشنگٹن سے امریکہ کی زرعی اشیا اور توانائی کے آلات خریدنے کا وعدہ کیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین پر تجارتی خسارہ کم کرنے پر زور دیتے آ رہے ہیں جو گزشتہ سال 375 ارب 20 کروڑ ڈالرکی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا تھا۔ صدر ٹرمپ چین سے درآمدات پر 150 ارب ڈالر تک محصولات عائد کرنے کی تنبیہ کر چکے ہیں۔راس نے کہا کہ اب تک ہونے والی ہماری ملاقاتیں دوستانہ ماحول میں ہوئی ہیں جن میں مخصوص درآمدی اشیاء کے بارے میں مفید موضوعات پر بات ہوئی۔راس کے ہمراہ زراعت، خزانہ اور تجارت کے امور کے عہدیدار تھے جبکہ لیو کے وفد میں چین کے سنٹرل بینک کے گورنر اور وزیر تجارت شامل تھے۔