آزاد کشمیر میں تیرویں آئینی ترمیم خوش آئند ہے،بیرسٹر سلطان محمود چوہدری

آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات بھلا کر باقی ترامیم بھی کی جانی چاہئیں،خطاب

اتوار جون 17:10

باغ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ ہم آزاد کشمیر میں تیرویں آئینی ترمیم کو خوش آمدیدکہتے ہیں۔یہ ریاستی تشخص کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ اگرچہ ابھی کچھ اور اقدامات بھی اٹھائے جانے باقی ہیں کیونکہ جس طرح باقی صوبوں میں وہاں کے آئی جی چیف سیکریٹری اور فنانس سیکریٹری لگ سکتے ہیں تو آزاد کشمیر میں بھی ایسے ہی ہونا چاہیے۔

جیسا کہ پہلے ہوتا تھا کہ وفاقی حکومت تین نام بھیجتی تھی اور اس میں سے ایک نام حکومت آزاد کشمیرسلیکٹ کرکے دیتی تھی۔ جبکہ اب کچھ عرصے سے الٹی گنگا بہہ رہی ہے اب آئی جی ، چیف سیکرٹیری ،فنانس سیکریٹری مسلط کر دئیے جاتے ہیں اور آزاد کشمیر کے قابل اور فرض شناس افسران کا حق مارا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

ہم نے تمام اختلافات کے باوجود اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے ان ترامیم کی حمایت کی اور آئندہ بھی ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو اسکی حمایت کریں گے۔

اسکے لئے آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی اختلافات بھلا کر باقی ترامیم بھی کی جانی چاہیں۔ضلع باغ کو دانستہ طور پر پسماندہ رکھا گیا ۔ میں جب وزیر اعظم تھا تو میں نے باغ میں ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا اسی طرح ڈسٹرکٹ ہاسپٹل بنوایا، طلبہ و طالبات کے لئے علیحدہ علیحدہ پوسٹ گریجویٹ کالجز دئیے اور تقریباً دوسو کے قریب اسکول بنوائے۔

اسی طرح ایجوکیشن کالج دیا۔ اب شنید ہے کہ یہ ایجوکیشن کالج کہیں اور منتقل کیا جا رہا ہے اور باغ سے چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے جس پر یہاں پر خواتین سراپائے احتجاج ہیں ۔ ہم ان احتجاج کرنے والی بچیوں کے ساتھ ہیں اور ایجو کیشن کالج کو کہیں اور منتقل نہیں کرنے دیں گے۔پی ٹی آئی کشمیر کے کارکن ممبر شپ کا کام تیز کریں تاکہ عید کے بعدتنظیمی ساز ی کا کام جلد مکمل کیا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے یہاں باغ میں اشفاق گردیزی کی جانب سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے افطار ڈنر کے موقع پر ایک جلسہ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جسکی صدارت سید اشفاق گردیزی نے کی جبکہ جلسہ سے پی ٹی آئی کشمیر کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات سردار امتیاز خان،راجہ خورشید خان، سردار طاہر اکبر، بشارت بادشاہ،بیگم امتیازکرنل نسیم، کیپٹن وقاص،راجہ مسعود ایڈووکیٹ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر پی ٹی آئی کشمیر کی ممبر سازی مہم کے حوالے سے ایک کیمپ بھی لگایا گیا اس موقع پر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے ممبر بنانے کے لئے خود بھی دستخط کیے۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ ہم نے اصولی موقف اپناتے ہوئے تیرویں ترمیم کی حمایت کی تھی کیونکہ یہ آزاد کشمیر حکومت کو بااختیار بنانے کی جانب ایک قدم ہے۔ابھی ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سلسلے میں مزید اقدامات بھی اٹھائے جائیں کیونکہ چیف سیکریٹری، آئی جی اور فنانس سیکریٹری کی تقرری سے آزاد کشمیر کے قابل اور فرض شناس افسران آگے نہیں آسکتے ہیں۔

ان کا اختیار بھی آزاد کشمیر حکومت کے پاس ہونا چاہیے۔اسی طرح ججز کی تقرری کا اختیار بھی حکومت آزاد کشمیر کے پاس ہونا چاہیے جبکہ چیف الیکشن کی کمشنرکی تقرری بھی آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے عمل میں لائی جانی چاہیے۔کیونکہ ستر سالہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی حکومت ہوتی ہے وہ آزاد کشمیر میں بھی حکومت بنا لیتی ہے۔

کیونکہ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر بھی وفاقی حکومت کرتی ہے۔لہذا آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی سیاسی اختلافات بھلا کر اسکی حمایت کرنی چاہیے اور اب جو بھی سیاسی جماعت پٹھو کاکردار ادا کرے گی یا جنہیں کشمیر کونسل کی اسکیموں سے مال کھانے کاخون منہ سے لگ گیا ہے آزاد کشمیر کے عوام ان سے اب حساب ضرور لیں گے۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ میں نے ہی اپنے دور حکومت میں باغ کے مسائل حل کیے اور آئندہ بھی ہم ہی باغ کے مسائل حل کرائیں گے۔

میں نے باغ ڈویلپمنٹ اتھارٹی، دو پسٹ گریجویٹ کالجز، دوسو کے قریب اسکول اور ڈسٹرکٹ ہسپتا ل اور ایجوکیشن کالج دیا۔ میرے باغ کے کچھ دوستوں نے بتایا ہے کہ یہ ایجوکیشن کالج باغ سے منتقل کیا جا رہا ہے اور اس پر یہاں کی بچیاں سراپائے احتجاج ہیں۔ہم اس سلسلے میںان بچیوں کے ساتھ ہیں اور کسی صورت باغ کے عوام کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔

اس موقع پر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے پی ٹی آئی کشمیر کے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پی ٹی آئی کشمیر کی ممبر شپ مہم جلد مکمل کریں تاکہ عید کے بعد ہم جلد تنظیم سازی مکمل کر سکیںاور الیکشن کی تیاری کریں تاکہ پی ٹی آئی اقتدار میں آکر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور عوامی حقوق کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کر سکے۔آج باغ اور پونچھ کی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ ایسے ٹھیکیداروں کا بھی احتساب کیا جائے گا جو حکومت کے ساتھ ملکر کرپشن کر رہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں کرپشن سب سے بڑا زہر ہے اسے ہم جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔