پاکستان کاعالمی ادارہ برائے اقتصاد و ترقیاتی تعاون کیساتھ باضابطہ طور پر غیرملکی پاکستانیوں کے بینک اکائونٹس کی مالی معلومات کے تبادلے کا فیصلہ

معلومات کا تبادلہ ستمبر میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر اداروں میں مطلوبہ ہارڈ ویئر اور سافٹ ایئر کی انسٹالیشن کے بعد شروع کردیا جائیگا

اتوار جون 17:32

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) پاکستان نے کثیرالجہتی ٹیکس کنونشن کے تحت باہمی تعاون کی بنیاد پر عالمی ادارہ برائے اقتصاد و ترقیاتی تعاون (او ای سی ڈی)کے ساتھ باضابطہ طور پر غیرملکی پاکستانیوں کے بینک اکائونٹس کی مالی معلومات کے تبادلے کا فیصلہ کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق معلومات کا تبادلہ رواں برس ستمبر میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر اداروں میں مطلوبہ ہارڈ ویئر اور سافٹ ایئر کی انسٹالیشن کے بعد شروع کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ معلومات کے تبادلے کا فیصلہ او ای سی ڈی حکام کی جانب سے تفصیلی جائزہ لینے کے لیے کا ایف بی آر کے دورے کے بعد جاری کردہ کلیئرنس کے بعد سامنے آیا ہے۔او ای سی ڈی کنونشن کے مطابق گزشتہ 2 سال سے مختلف قوانین اور مسلسل کوششوں کی وجہ سے پاکستان اب 20-2018 کے لیے گلوبل فورم کے پیر ریویو گروپ (پی آر جی)کا حصہ بن گیا۔

(جاری ہے)

پی آر جی گروپ 30 ممالک پر مشتمل ہے جن کے پاس تمام رکن ممالک کی معلومات کے تبادلے سے متعلق پالیسی پر مصالحت کرنے، جائزہ لینے اور ان کی نگرانی کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ روں برس مئی میں ایف بی آر کو ایک باضابطہ تعریفی خط ارسال کیا گیا جس میں ہارڈ ویئر اور سافٹ ایئر کی انسٹالیشن کی تعمیل پر ایف بی آر کی تعریف کی گئی اور یہ کہا گیا کہ اتنی تیزی سے کسی ترقی یافتہ ملک نے بھی کام نہیں کیا۔منظور شدہ منصوبے کے مطابق کل 56 ممالک نے پاکستان کے ساتھ ضروری معلومات کے تبادلے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

ستمبر 2018 سے شروع ہونے والے پہلے مرحلے میں پاکستان 35 ممالک کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرے گا جبکہ ستمبر 2019 سے شروع ہونے والے دوسرے مرحلے میں یہ مزید 20 ممالک کو اس فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے علاہ 2020 میں صرف ایک ملک کے ساتھ پاکستان معلومات کا تبادلہ کرے گا۔دیگر 48 ممالک کی جانب سے پاکستان کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی اشارہ نہیں دیا گیا تاہم کچھ رکن ممالک نے پاکستان کے ساتھ معلومات کے تبادلے سے انکار کردیا۔

ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حکومت پاکستان پر انحصار کرتا ہے کہ وہ معلومات کا تبادلہ کرنے سے انکار کرنے والے ممالک سے دوطرفہ بنیاد پر رابطہ استوار کرکے انہیں معلومات کے تبادلے کے لیے رضا مند کرے، تاہم یہ مسئلہ حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔یاد رہے کہ 2016 میں پاکستان نے ٹیکس معاملات میں کنونشن برائے باہمی انتظامی معاونت پر دستخط کیے تھے جس نے پاکستان کے لیے آف شور اکانٹس کے تبادلے کی راہ ہموار کرتا ہے۔

متعلقہ عنوان :