سپریم کورٹ نے کاغذاتِ نامزدگی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا

عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہو نگے، الیکشن میں تاخیر کا ذمہ دار الیکشن کمیشن ہو گا ،چیف جسٹس ثاقب نثار

اتوار جون 18:10

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) سپریم کورٹ نے کاغذاتِ نامزدگی کالعدم قرار دینے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہو نگے، الیکشن میں تاخیر ہوئی تو الیکشن کمیشن ذاتی طور پر اسکا ذمہ دار ہو گا ۔ اتوار کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کاغذات نامزدگی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سردار ایاز صادق اور الیکشن کمیشن کی اپیلوں کی سماعت کی۔

سردار ایاز صادق اور الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کیا جس میں ایاز صادق کے وکلا نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ وہ کیس کی فوری سماعت کریں کیوں کہ یہ انتخابات کے بروقت انعقاد کا معاملہ ہے، ہائی کورٹ کے فیصلے سے انتخابات میں تاخیر ہوگی جبکہ الیکشن کمیشن نے اپیل میں موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں تضاد پایا جاتا ہے اور فیصلے سے انتخابات کا شیڈول متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اگر نامزدگی فارم کا اجرا جلد شروع نہ کیا گیا تو انتخابات تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

یکم جون کو لاہور ہائی کورٹ نے آئینی ماہر سعد رسول کی درخواست پر پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذاتِ نامزدگی کو کالعدم قرار دتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دیا اور کہا تھا کہ نئے کاغذات نامزدگی میں آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تقاضے دوبارہ شامل کئے جائیں۔۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہو نگے، الیکشن میں تاخیر ہوئی تو الیکشن کمیشن ذاتی طور پر اسکا ذمہ دار ہو گا۔