جی سیون وزرا کی امریکی محصولات پر تنقید، تجارتی جنگ کی تنبیہ

تجارتی جنگ چند دنوں میں شروع ہو سکتی ہے، کینیڈا یکم جولائی سے امریکہ کی 13 ارب ڈالر کی برآمددات پر 25 فیصد محصولات عائد کرے گا،یورپی یونین نے بھی امریکی مصنوعات پر محصولات کی دس صفحات پر مبنی فہرست جاری کر دی ، ہارلے ڈیوڈسن موٹر سائیکل سے لے کر بوربن شراب تک شامل

اتوار جون 18:10

ٹورینٹو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) جی سیون گروپ کے ناراض وزرائے خزانہ نے امریکہ کے وزیرِ خزانہ سٹیو مونچن کو امریکہ کی جانب سے یورپی سٹیل اور ایلومینیم پر درآمدی محصولات عائد کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئیا مریکی فیصلے کے خلاف جوائی اقدامات کی دھمکی دی ہے اور خبر دار کیا ہے کہ تجارتی جنگ چند دنوں میں شروع ہو سکتی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی سٹیل اور ایلومینیم پر درآمدی محصولات عائد کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محصولات امریکی سٹیل سازوں کا تحفظ کریں گے جو کہ ملکی سلامتی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کینیڈا میں منعقد ہونے والے جی سیون گروپ کے ایک اجلاس میں یورپی یونین اور کینیڈا نے امریکی فیصلے کے خلاف جوائی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔

(جاری ہے)

فرانس کے وزیرِ خزانہ نے خبر دار کیا ہے کہ تجارتی جنگ چند دنوں میں شروع ہو سکتی ہے۔یورپی یونین، کینیڈا اور میکسیکو کے رہنما ئو ں نے امریکی فیصلے کی مزمت کی ہے۔فرانسیی صدر ایمینوئل میکخواں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کال کر کے ان محصولات کو غیر قانونی قرار دیا جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ امریکی تجارت میں توازن تبدیل کرنے کی ضرورت تھی۔

یورپی یونین نے بھی امریکی مصنوعات پر محصولات کی دس صفحات پر مبنی فہرست جاری کی ہے جس میں ہارلے ڈیوڈسن موٹر سائیکل سے لے کر بوربن شراب تک شامل ہے۔۔کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ یہ اقدام قطعی ناقابلِ قبول ہے۔۔کینیڈا کا منصوبہ ہے کہ وہ یکم جولائی سے امریکہ کی 13 ارب ڈالر کی برآمددات پر 25 فیصد محصولات عائد کرے گا۔ ان اشیا میں امریکی سٹیل سے لے کر عام صارفین کے استعمال کی چیزیں جیسے دہی، وسکی اور کافی شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی سٹیل اور ایلومینیم پر درآمدی محصولات عائد کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محصولات امریکی سٹیل سازوں کا تحفظ کریں گے جو کہ ملکی سلامتی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ جبکہ ا مریکی وزیرخزانہ اسٹیون منوچن نے بتایا کہ وہ اس بیان کا حصہ نہیں تھے اور ان کے بقول ٹرمپ "ہمارے تجارتی تعلقات کو توازن" میں لانے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیںمیرا نہیں خیال کہ کسی بھِ صورت امریکہ عالمی اقتصادیات کی اپنی قیادت کو ترک کر رہا ہے۔ میرے خیال میں ہم نے امریکہ میں بہت بڑی ٹیکس اصلاحات کی ہیں جس سے امریکی معیشت پر زبردست اثرات مرتب ہوئے ہیں۔