ْمحمود مسافرکی بھوک ہڑتال اوراحتجاج کا آج 22 واں روز، محمود مسافر کی طبعیت انتہائی ناساز

احتجاجی کیمپ میں آزاد کشمیر او ر پاکستان کی کوئی بھی ذمہ داری شخصیت محمود مسافر کی خبرلینے سے قاصر

اتوار جون 18:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) محمود مسافرکی بھوک ہڑتال اوراحتجاج کا آج 22 واں روز، محمود مسافر کی طبعیت انتہائی ناساز ، احتجاجی کیمپ میں آزاد کشمیر او ر پاکستان کی کوئی بھی ذمہ داری شخصیت محمود مسافر کی خبرلینے سے قاصر ، محمود مسافر نے اپنی وصیت میں دونوں حکومتوں ، انتظامیہ اپنی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے تفصیلات کے مطابق محمود مسافر نے آزاد کشمیر بھر میں پیدل مارچ ، لال ٹین مارچ ، گدھا اونٹ مارچ کیا اور آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق کے تحفظ بہترسہولیات زندگی کی فراہمی پر مشتمل 32 نکاتی ایجنڈا حکومت آزاد کشمیر کو پیش کیا ، محمود مسافر کو درجنوں بار بھوکھا پیاسا ررہنا پڑا مگر اس کے 32 میں سے ایک بھی مطالبہ کو حکومت نے نہیں مانا ، محمود مسافر کا حالیہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ قبل بھمبر سے مظفرآباد تین گدھوں ایک اونٹ کے ہمراہ پیدل احتجاج کیا گیا کوہالہ پہنچنے پر مظفرآباد انتظامیہ نے محمود مسافر کو جانوروں سمیت روک لیا اور جہاں ان کی طبعیت خراب ہونے کے باعث مظفرآباد شفٹ کیا گیا اور رات کی تاریکی میں محمود مسافر کو جانوروں سمیت گاڑی میں ڈال کر کوٹلی تھانہ کے باہر پھینک دیا گیا محمود مسافر نے وہاںسے پھر مظفرآباد آکر بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا ، ڈی سی مظفرآباد ، اسسٹنٹ کمشنر مظفرآباد نے محمود مسافر کی منت سماجت کرتے ہوئے احتجاج ختم کروایا اور محمود مسافر نے انتظامیہ کو بولا کہ اس کے جانور اسے واپس کوہالہ کے مقام پر واپس ملنے چاہیے جہاں سے وہ آگے کا پلان مرتب کرئے گا مگر 9 مئی جانوروں کی مقررہ تاریخ گزر گئی محمود مسافر کو جانور واپس نہ دئیے گئے تو محمود مسافر نے 14 مئی کو اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے قریب غیر معینہ مدت کے لئے احتجاجی کیمپ لگایا ، آج محمود مسافر کے احتجاج کو 22 روز ہو چکے ہیں مگر حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر کے ایک بھی ذمہ دار شخص محمود مسافر کے مسائل سننے کی توفیق نہیں ہوئی ، محمود مسافر کو بھوکا رہنے کی وجہ سے انتہائی صحت خراب ہو چکی ہے اور محمود مسافر نے اپنی وصیت میں دونوں حکومتوں کو اپنی موت کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا ہے ۔

(جاری ہے)

محمود مسافر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں تو آزاد کشمیر کی حکومت اور انتظامیہ کو بے اختیار سمجھ رہا تھا مگر ادھر آ کر پتہ چلا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ تو آزاد کشمیر انتظامیہ سے بھی زیادہ کمزور اختیار، بے ضمیری میں اعلیٰ مثال اور انسانیت کا درد دل رکھنے سے بے خبر ہیں، محمود مسافر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدرخان نے اسلام آباد والوں سے اختیارات آزاد کشمیر منتقل کر لئے ہیں لگتا ہے اب مظفرآباد والے با اختیار ہو گئے ہیں مگر محمود مسافر کے مطالبات ماننے سے وہ اب بھی قاصر ہیں ۔