بھارت مقبوضہ کشمیر میں جبر و استبداد کے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے‘ علی رضا سید

قابض بھارتی اہلکار قبل ازیں پیلٹ بندوقوں کا بے دریغ استعمال کر کے سینکڑوں کشمیریوںکو بصارت سے محروم کر چکے ہیں

اتوار جون 18:10

برسلز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) کشمیر کونسل یورپی یونین کے چیئرمین علی رضا سید نے مقبوضہ کشمیرکی ابتر صورحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں جبر و استعمال کے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ علاقے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر غور و خوض کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق علی رضا سید نے برسلز میںجاری ایک بیان میںکہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں جبر و استبداد کے نئے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردیے ہیں اور قابض بھارتی فورسز کے اہلکار پر امن کشمیری مظاہرین کو اپنی گاڑیوں تلے روند رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جمعہ کے روز سرینگر کے علاقے نوہٹہ میں قصیر احمد نامی نوجوان کو بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس نے جیپ کے نیچے کچل کر شہید جبکہ ایک اور نوجوان محمد یونس کو شدید زخمی کر دیا۔

(جاری ہے)

علی رضا سید نے کہا کہ قابض بھارتی اہلکار قبل ازیں پیلٹ بندوقوں کا بے دریغ استعمال کر کے سینکڑوں کشمیریوںکو بصارت سے محروم کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قابض فوجیو ں کی طرف سے بے گناہ کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں شہیدکرنے اور عفت مآب کشمیری خواتین کی بے حرمتی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہ بھارت گزشتہ ستائیس برس کے دوران دس ہزار کے لگ بھگ کشمیریوں کو لاپتہ کر چکا ہے جبکہ مقبوضہ علاقے میں اب تک چھ ہزار گمنام اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کونسل یورپی یونین کی طرف سے قابض بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ علاقے میںجاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے اعداد وشمار مرتب کیے جا رہے ہیںجو بعد میں عالمی برادری کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ علی رضا سید نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکی کٹھ پتلی انتظامیہ بھارتی مظالم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوںنے اقوام متحدہ اوریورپی یونین کے علاوہ عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میںبھارتی مظالم بند کرانے اور تنازعہ کشمیر کو کشمیریوںکی خواہشات کے مطابق حل کرانے کیلئے کردار ادا کریں۔