محکمہ جنگلات کی زمین پر قبضہ کی کوشش، ٹیچرز نے محکمہ جنگلات کے دفتر کو آگ لگا دی‘ اہم ریکارڈ جل کر خاکستر

محکمہ جنگلات کے ملازمین بھاگ گئے‘ پولیس کا روائی سے گریزاں

اتوار جون 18:10

آٹھ مقام(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) محکمہ جنگلات کی زمین پر قبضہ کی کوشش، ٹیچرز نے محکمہ جنگلات کے دفتر کو آگ لگا دی، اہم ریکارڈ جل کر خاکستر۔ محکمہ جنگلات کے ملازمین بھاگ گئے۔ پولیس کا روائی سے گریز۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر ٹھمقام میں ڈگری کالج آٹھمقام سے ملحق پانچ کنال خالصہ سرکار زمین محکمہ مال سے ہائی سکول کی عمارت کی تعمیر کے لئے الاٹ کی تھی جوکہ محکمہ جنگلات کے زیر قبضہ ہے۔

اس زمیں میں محکمہ جنگلات تجدید و نارمل کے ضلعی دفاتر اور لکڑی کی منڈی کئے ساتھ تجدید جنگلات کی نرسری بھی ہے۔ محکمہ جنگلات نے زمین سے دستبرداری سے انکار کر دیا ہے۔ جس پر مسلم لیگ ن حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ماسٹروں پر طلباء کو اکسا کر اس سے قبل دو مرتبہ حملہ کروا کر محکمہ جنگلات کی املاک کو نقصان پہنچایا ہے ۔

(جاری ہے)

گذشتہ روز رات کی تاریکی میں حکومتی ایماء پر زبردستی محکمہ جنگلات کی متنازعہ اراضی پر خیمہ لگا لیا تھا جس پر اتوار کی صبح محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے خیمہ کو اکھاڑ پھینکا اور محکمہ تعلیم کے اہلکاروں کو زدو کوب کیا جس پر مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے غنڈوں نے حملہ آور ہو کر محکمہ جنگلات کے کواٹر کو آگ لگا دی جس میں محکمہ جنگلات کا قیمتی ریکارڈ جل کر خاکستر ہو گیا ہے پولیس کے موقع پر پہنچنے پر آتشزدگی پر قابو پایا گیا ہے۔

پولیس نے محکمہ تعلیم کے ماسٹروں اور حملہ آوروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی ہے۔ محکمہ جنگلات کے اہلکار موقع سے بھاگ گئے ہیں اور محکمہ تعلیم کے ملازمین نے زبردستی رقبہ پر شلتر کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ محکمہ مال کے اعلیٰ آفیسر نے بتایا کہ جب وہ دپٹی کمشنر نیلم تھے تو اس وقت رقبہ محکمہ تعلیم کو ہائی سکول کی عمارت کی تعمیر کے لئے الاٹ کیا گیا تھا۔ عقبہ بنیادی طوت پر خالصہ سرکار ہے جس پر محکمہ جنگلات قابض ہے۔ اور محکمہ جنگلات نے بھی الاٹمنٹ کے لئے فائل کو زیر پراسیس رکھا ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق دونوں محکمہ جات میں تصادم اور تنازعہ بدانتظامی کا نتیجہ ہے جس کی ذمہ دار حکومت ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔