پاکستان کا 56 ممالک سے غیر ملکی اکاؤنٹس کی معلومات شیئر کرنے کا فیصلہ

معلومات کا تبادلہ رواں برس ستمبر میں ایف بی آر اور دیگر اداروں میں مطلوبہ ہارڈ ویئر اور سافٹ ایئر کی انسٹالیشن کے بعد شروع کردیا جائیگا

اتوار جون 18:20

پاکستان کا 56 ممالک سے غیر ملکی اکاؤنٹس کی معلومات شیئر کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) پاکستان نے کثیرجہتی ٹیکس کنونشن کے تحت باہمی تعاون کی بنیاد پر عالمی ادارہ برائے اقتصادی و ترقیاتی تعاون (او ای سی ڈی) کے ساتھ باضابطہ طور پر غیرملکی پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس کی مالی معلومات کے تبادلے کا فیصلہ کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق معلومات کا تبادلہ رواں برس ستمبر میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور دیگر اداروں میں مطلوبہ ہارڈ ویئر اور سافٹ ایئر کی انسٹالیشن کے بعد شروع کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ معلومات کے تبادلے کا فیصلہ او ای سی ڈی حکام کی جانب سے تفصیلی جائزہ لینے کیلئے ایف بی آر کے دورے کے بعد جاری کردہ کلیئرنس کے بعد سامنے آیا۔او ای سی ڈی کنونشن کے مطابق گزشتہ 2 سال سے مختلف قوانین اور مسلسل کوششوں کی وجہ سے پاکستان اب 20-2018 کے لیے گلوبل فورم کے پیر ریویو گروپ (پی آر جی) کا حصہ بن گیا۔

(جاری ہے)

پی آر جی گروپ 30 ممالک پر مشتمل ہے جن کے پاس تمام رکن ممالک کی معلومات کے تبادلے سے متعلق پالیسی پر مصالحت کرنے، جائزہ لینے اور ان کی نگرانی کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس مئی میں ایف بی آر کو ایک باضابطہ تعریفی خط ارسال کیا گیا تھا جس میں ہارڈ ویئر اور سافٹ ایئر کی انسٹالیشن کی تعمیل پر ایف بی آر کی تعریف کی گئی اور یہ کہا گیا کہ اتنی تیزی سے کسی ترقی یافتہ ملک نے بھی کام نہیں کیا۔منظور شدہ منصوبے کے مطابق کل 56 ممالک نے پاکستان کے ساتھ ضروری معلومات کے تبادلے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

ستمبر 2018 سے شروع ہونے والے پہلے مرحلے میں پاکستان 35 ممالک کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کریگا جبکہ ستمبر 2019 سے شروع ہونے والے دوسرے مرحلے میں مزید 20 ممالک کو اس فہرست میں شامل کیا جائیگا اس کے علاہ 2020 میں صرف ایک ملک کے ساتھ پاکستان معلومات کا تبادلہ کریگا۔دیگر 48 ممالک کی جانب سے پاکستان کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی اشارہ نہیں دیا گیا تاہم کچھ رکن ممالک نے پاکستان کے ساتھ معلومات کے تبادلے سے انکار کردیا۔

ایف بی آر میں موجود ذرائع کے مطابق یہ حکومتِ پاکستان پر انحصار کرتا ہے کہ وہ معلومات کا تبادلہ کرنے سے انکار کرنے والے ممالک سے دوطرفہ بنیاد پر رابطہ استوار کرکے انہیں معلومات کے تبادلے کے لیے رضا مند کرے تاہم یہ مسئلہ حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔یاد رہے کہ 2016 میں پاکستان نے ٹیکس معاملات میں کنونشن برائے باہمی انتظامی معاونت پر دستخط کیے تھے جو پاکستان کیلئے آف شور اکاؤنٹس کے تبادلے کی راہ ہموار کرتا ہے۔واضح رہے کہ پاناما پیپرز کیس سامنے آنے کے بعد اس کنونشن پر دستخط کرنے کی ضرورت پیش آئی تھی۔