بلوچستان میں نئی بننے والی جماعت کا آنے والے وقت میں کوئی مستقبل نہیں دیکھ رہا ، عبدالقادر بلوچ

جس طرح مقتدر قوتوں کی جانب سے سرپرستی اور سپورٹ کا تار معاشرے میں دے رہے ہیں اس میں کوئی صداقت نہیں ، صحافیوں سے بات چیت

اتوار جون 18:20

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) بلوچستان مسلم لیگ(ن) کے صدر وسابق وفاقی وزیر جنرل (ر) عبدالقادربلوچ نے کہا ہے کہ نئی بننے والی پارٹی تاثردینے کی کوشش کر رہی ہے کہ انہیں مقتدر قوتوں کی سرپرستی اور حمایت حاصل ہے فوج ایک معتبر اور بڑی اہمیت حامل ادارہ ہے وہ علاقائی سطح پر کسی بھی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتا اگر انہیں کسی جماعت کو سپورٹ کرنا ہے تو وہ ملک گیر پارٹی کو کریگی۔

یہ بات انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمان اوردیگر عہدیداروں سے ملاقات کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ڈپٹی میئر کوئٹہ محمد یونس بلوچ ، میر عرفان کردبھی موجود تھے۔جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ پاکستان کی بڑی جماعتیں جس میں پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی ،جے یو آئی اور ہماری جماعت مسلم لیگ(ن) الیکشن کی تاخیر کے سخت مخالف ہیں حلقہ بندیوں کا معاملہ ضرور ہے لیکن اسکو آئینی طریقے سے بروقت نمٹانا چاہئے اور سپریم کورٹ کی جانب سے جو فیصلے اوراقدامات کہ بلوچستان میں نئی بننے والی جماعت کا آنے والے وقت میں کوئی مستقبل نہیں دیکھ رہا ہوں کیونکہ وہ جس طرح مقتدر قوتوں کی جانب سے سرپرستی اور سپورٹ کا تاثر معاشرے میں دے رہے ہیں اس میں کوئی صداقت نہیں اٹھائے گئے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حلقہ بندیوں کا معاملہ جلد حل ہوجائے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نئی بننے والی جماعت کا آنے والے وقت میں کوئی مستقبل نہیں دیکھ رہا ہوں کیونکہ وہ جس طرح مقتدر قوتوں کی جانب سے سرپرستی اور سپورٹ کا تاثر معاشرے میں دے رہے ہیں اس میں کوئی صداقت نہیں کیونکہ فوج پاکستان کا ایک معتبر ادارہ ہے جس کی اپنی حیثیت ہے وہ ملک گیر سطح پرمسائل کے حل اور پارٹی کو سپورٹ کریگا نہ کہ صوبائی یا علاقائی کسی جماعت کوسپورٹ کریگا۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کی صورت میں ہی انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے اس میںبھی عوام اور عوامی نمائندوں کی کثرت رائے کو ملحوظ خاطر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئی پارٹی کے ذریعے بلوچستان کے مسائل کو مصنوعی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں کامیابی حاصل نہیں ہوگی کیونکہ ماضی کے تجربات ہمارے سامنے ہیں۔ا نہوں نے کہا کہ ملک کی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آسکتی کیونکہ پاکستان کی 22کروڑ عوام اورپاک فوج ایک پلیٹ فارم پر ہیں فورسز نے جانیں قربان کرکے امن کی بحالی کو یقینی بنایا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف فیصلوں اور جج منٹ کے خلاف اپنا موقف پیش کرتے ہیں وہ فوج اور اداروں کے خلاف نہیں ہیں بلکہ فرد واحد کے خلاف انکے تحفظات ضرور ہوسکتے ہیں لیکن انہیں بھی ملکی اور فوج کا مفاد سب سے زیادہ عزیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کاپچھلی حکومت میں تین جماعتوںسے اتحاد تھا آنے والے الیکشن میں انکے ساتھ بات چیت ہوسکتی ہے اس میں پارٹی قیادت جو فیصلہ کریگی اسکو بلوچستان کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ہوگا۔