بی اے پی برسراقتدار آئی تو ترقیاتی منصوبے کاغذوں کی بجائے زمین پر نظر آئیں گے،میر جام کمال

عوام کی دولت لوٹنے والوں کا احتساب ہونا چاہئے،ماضی میں برسراقتدار رہنے والی پارٹیوں نے بلوچستان اور پاکستان کی بہتری کیلئے کردارادا نہیں کیا ،بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر کی پریس کانفرنس

اتوار جون 18:20

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر میرجام کمال خان نے کہا ہے کہ اگر ہماری پارٹی برسراقتدار آئی تو ترقیاتی منصوبے کاغذوں کی بجائے زمین پر نظر آئیں گے کیونکہ ہم نے احتساب کے عمل کو اپنے منشور کا حصہ بنیا ہے اور اب عوام کی دولت لوٹنے والوں کا احتساب ہونا چاہئے ۔یہ بات انہوں نے بلوچستان متحدہ محاذ کے چیئرمین نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کی جانب سے بلوچستان متحدہ محاذ کو بی اے پی میں ضم کرنے ، جمعیت علماء اسلام کے رہنما سردار نور احمد بنگلزئی ، سردار میر عنایت اللہ مینگل ،ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار آغا شکیل درانی ، ہما رئیسانی ایڈؤوکیٹ کی اپنے ساتھیوں سمیت بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی ۔

اس موقع پر بی اے پی کے جنرل سیکرٹری منظوراحمد کاکڑ، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری میراسماعیل لہڑی ،سیکرٹری اطلاعات چوہدری شبیر احمد سینیٹر نصیب اللہ بازئی ، پرنس احمد علی ، محمد خان لہڑی ،حاجی امان اللہ نوتیزئی ، ملک خدا بخش لانگو ،میر ظفرقمبرانی ،علاؤ الدین کاکڑاور دیگر بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

بلوچستان متحدہ محاذ کے چیئرمین نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی نے بلوچستان متحدہ محاذ کو غیر مشروط طور پر بلوچستان عوامی پارٹی میں ضم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد شہید میر غوث بخش رئیسانی نے 1974ء میں بلوچستان متحدہ محاذ کی بنیاد رکھی تھی اور اب میں اسکو بی اے پی میں ضم کرنے کا باقاعدہ کرتا ہوںکیونکہ ماضی میں برسراقتدار رہنے والی پارٹیوں نے بلوچستان اور پاکستان کی بہتری کیلئے کردارادا نہیں کیا بلکہ لوگوں کو دست و گریبان کرکے صوبے کو محرومی کی جانب دھکیلا اب ہم تمام قومیتوں ،قبائل کو ساتھ لیکر چلیںگے۔

جمعیت علماء اسلام کے رہنما سردار نوراحمد بنگلزئی نے اپنے ساتھیوں اور قبائل سمیت مستعفی ہوکر بی اے پی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب ملکر بلوچستان اور پاکستان کی ترقی کے حوالے سے کردارادا کریں گے کیونکہ پاکستان کا مستقبل بلوچستان سے جڑا ہوا ہے۔ڈسٹرکٹ چیئرمین آغا شکیل درانی اور ہما رئیسانی ایڈووکیٹ نے مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہونے والے اپنے ساتھیوں سمیت بی اے میں شمولیت کا اعلان کیا۔

آغا شکیل درانی نے کہا کہ میں نے سابق وزیراعلیٰ سے خضدار کی تعمیر و ترقی اور عوام کے مسائل کے حل کیلئے جتنے اقدامات کرسکتے تھا کئے ہیں کیونکہ سی پیک میں مشرقی،مغربی اور وسطی روٹ خضدار سے گزار نا ہے خضدار کی سی پیک میں بڑی اہمیت ہے سابق صوبائی وزیر سرداراسلم بزنجو نے اپنے دور حکومت میں علاقے میں کوئی کام نہیں کئے آج بھی تعلیمی اداروں میں مال مویشی بندھے ہوئے ہیں ۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے صدرمیر جام کمال خان نے شامل ہونے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل بلوچستان سے وابستہ ہے جب تک بلوچستان ترقی نہیں کریگا اسوقت تک پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ہمیشہ ترقیاتی کاموں میں نظر انداز کرکے بیڈ گورننس کا مظاہرہ کیا گیا لیکن ہماری پارٹی خود احتسابی عمل پر یقین رکھتی ہے کیونکہ عہدیدار اور کارکن اس عمل کی وجہ سے کوئی غلط کام نہیں کریں گے اور اگر ہم گڈ گورننس قائم نہ کرسکے تو پھر کوئی بھی بلوچستان میں بہتری نہیں لاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہماری پارٹی برسراقتدار آئی تو ترقیاتی کام اور میگا پروجیکٹس کاغذوں کی بجائے زمین پر نظر آئیں گے کیونکہ ہم اسی سسٹم میں بہتری لاکر گڈگورننس قائم کریں گے۔