کرپٹ الیکٹ ایبلزپھر اسمبلیوں میں پہنچ گئے تو 5سال سے جاری مشق لاحاصل ہوگی : الطاف شکور

کرپشن کے خلاف مہم ،انتخابی اصلاحات اور احتساب کا مقصد یہ ہے کہ عوام وڈیرہ شاہی سے ہمیشہ کے لئے نجات حاصل کریں حکومت اور ای سی پی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جانے کے اعلان پر پاسبان پاکستان کے صدر الطاف شکور کا رد عمل

اتوار جون 18:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) پاسبان پاکستان کے صدر الطاف شکور نے کہا ہے کہ الیکشن میں تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں ہرگز نہیں لیکن اگر ان انتخابات کے نتیجے میں ایک بار پھر مورثی سیاست ،،کرپشن زدہ الیکٹ ایبلز ،لوٹے اور مافیائوں کے سرپرست دوبارہ کامیاب ہوکر اسمبلیوں میں پہنچ کر قوم پر مسلط ہوجاتے ہیں تو پھر کرپشن کے خلاف مہم ، انتخابی اصلاحات اور احتساب کے نام پر 5سال سے اب تک جو مشق کی جارہی ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں اور وہ لا حاصل ہوکر کھایا پیا کچھ نہیں اور گلاس توڑ بارہ آنے کے مترادف ہو جائے گی ۔

نامزدگی فارم کو آئین کی دفعات 62.63کے مطابق بحال کیا جائے ورنہ جمہوریت کو پیک کرکے الماری میں رکھ دیا جائے ۔پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پاسبان پاکستان کے صدر الطاف شکور نے نگراں وزیر اعظم ،اسپیکر قومی اسمبلی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے نامزدگی فارم کے معاملے پر سپریم کورٹ جانے کے اعلان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ کیس کے حوالے سے کرپشن کے خاتمے کے لئے ملک بھر میں زوردار تحریک چلی ،بڑے بڑے سیاسی مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالا گیا ، احتساب کے شکنجے میں کسنے کی باتیں ہوئیں ۔

(جاری ہے)

عدلیہ نے ازخود نوٹس لے کر قوم کو نئی امید دلائی ۔ میرٹ کی پاسداری اور سی پیک کی حفاظت کے لئے اقدامات کئے گئے لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنی طاقت کا مظاہرہ نہیں کیا اور کرپٹ عناصر کے دبائو میں آکر انتخابات کو ثمر آور اور صاف و شفاف بنانے کے بجائے نامزدگی فارم سے ہی اہم معلومات حذف کردیں جس کے نتیجے میں عام ووٹرز کا شعور مجروح ہوا ۔

جب عام ووٹر زکو یہ پتہ ہی نہیں چلے گا کہ وہ چور ڈاکو کو ووٹ دے رہا ہے یا ملک کے مفاد اور بے لوث خدمت کا جذبہ رکھنے والے کسی آدمی کو ووٹ دے رہا ہے تو پھر جمہوریت اور انتخابات دونوں کا مقصد فوت ہوجائے گا ۔ الطاف شکور نے کہا کہ اس ملک کا عام آدمی چاہتا ہے کہ اس بار کرپٹ الیکٹ ایبلز ،کرمنلز ،وڈیرہ شاہی اور مورثی سیاست کے عملبرداروں سے نجات ملے لیکن اگر الیکشن کمیشن اور ادارے عام آدمی کو اس کا حق نہیں دیتے تو 5سال تک کی جانے والی مشق لا حاصل ہوجائے گی اور قوم کا رہاسہا اعتماد بھی ہمیشہ کے لئے دفن ہوجائے گا ۔