پیپلز پارٹی اور شیرازی برادران میں جاری مذاکرات بغیر نتیجے کے ختم ہوگئے

شیرازیوں کو دونوں اضلاع ایک ایک صوبائی نشست دینے کی پیشکش کی تھی جبکہ شیرازیوں نے تین نشستیں دینے کا مطالبہ کیا، پیپلز پارٹی نے انکار کردیا

اتوار جون 18:20

سجاول (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی اور شیرازی برادران میں جاری مذاکرات بغیر نتیجے کے ختم ہوگئے۔ سجاول اور ٹھٹھہ میں دلچسپ مقابلے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ شیرازی برادران کو پیپلزپارٹی شامل کرنے کے متعلق پیپلزپارٹی اور شیرازیوں کے درمیان جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے ختم ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی قیادت نے سجاول اور ٹھٹھہ اضلاع میں خسارے سے بچنے کے لیے شیرازیوں کو دونوں اضلاع ایک ایک صوبائی نشست دینے کی پیشکش کی تھی جبکہ شیرازیوں نے تین نشستیں دینے کا مطالبہ کیاجو کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے ماننے سے انکار کردیاجس پر شیرازی گروپ کے رہنما اور سابق ضلع ناظم ٹھٹھہ سید شفقت حسین شاہ شیرازی نے پیپلزپارٹی کی پیشکش قبول نہ کرتے ہوئے آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے مقابل امیدوار کھڑے کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

اس سے دونوں اضلاع میں صورتحال انتہائی دلچسپ ہوگئی ہے۔ دونوں پارٹیوں میں سخت مقابلے کے امکانات میں اضافہ ہو گیا ہے، واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عبدالواحد سومرو اور حاجی گل محمد سموں نے شیرازیوں کی پیپلز پارٹی میں امکانی شمولیت پر پارٹی قیادت کے سامنے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ شیرازیوں کی سجاول اور ٹھٹھہ دونوں اضلاع میں پوزیشن کمزور ہے اور انہیں شامل نہ کیا جائے۔

پیپلز پارٹی نے پارٹی امیدواروں کومقابلے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے حالانکہ پیپلز پارٹی قیادت کی جانب سے اب تک امیدواروں کے نام فائنل نہیں کیے گئے ہیں لیکن امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 232پر ڈاکٹر عبدالوحد سومرو حاجی گل محمد سموں اور شمس النسا میمن کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 77ٹھٹھہ کیلئے حاجی علی حسن زرداری،، حاجی گل محمد سموں، امتیاز قریشی ،اور حمید سومرو پی ایس 79میر پورساکرو کے لیے سسی پلیجو ،جام اویس گہرام اور پی ایس 78گھوڑاباری کے لیے حاجی گل محمد سموں،ممتاز جلبانی، عبالحمید پنہورو کے نام شارٹ لسٹ کیے گئے ہیں۔