ضلع ٹھٹھہ اور سجاول کے میڈیکل اسٹورز پر غیر معیاری ادویات کی فروخت کا سلسلہ جاری

دونوں اضلاع کے شہروں اور دیہات میں کئی اسٹور والے بغیر لائسنس کے غیر رجسٹرڈ دو نمبر کمپنیوں کی دوائیاں چلانے لگے

اتوار جون 18:20

سجاول (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) ضلع ٹھٹھہ اور سجاول کے میڈیکل اسٹورز پر غیر معیاری ادویات کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں اضلاع کے شہروں اور دیہات میں کئی اسٹور والے بغیر لائسنس کے غیر رجسٹرڈ دو نمبر کمپنیوں کی دوائیاں چلانے لگے۔ میڈیکل اسٹور مالکان کی طرف سے قانون کی کھلی خلاف ورزی، اسٹورز پر انتہائی کم ریٹ والی ادویات مہنگے داموں میں بیچ کر عوام کو لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔

بغیر کمپیوٹرائزڈ بل اور بغیر ائیرکنڈیشن چلنے والے میڈیکل اسٹورز میں ایکسپائر میڈیسن چلنے کی شکایتیںبھی موصول ہوئی ہیں۔ میڈیکل اسٹوروں میں کام کرنے والے ٹرینی لڑکے لوگوں کو دوائیاں فروخت کرنے لگے۔ ذرائع کے مطابق کئی اسٹور جو ٹیکنیکل افراد کے نام صرف رجسٹرڈ ہیں۔

(جاری ہے)

باقی چلانے والے نان ٹیکنیکل اسٹاف جو کہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔

دو نمبر میڈیسن جو کہ بغیر رجسٹرڈ کمپنیوں کی میڈیسن ہے جس کوسب اسٹینڈرڈ اور وہ کمپنیاں جو انتہائی کم ریٹ والی ادویات بناتی ہیں ان سے خریدی ہوئی میڈیسن انتہائی مہنگے ریٹ میں فروخت کر رہے ہیں۔ بل مانگنے سے بھی نہیں دیتے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایسے اسٹورز والوں کو بااثر افراد اور محکمہ صحت کا آشیرواد حاصل ہے۔ ڈرگ انسپکٹر منتھلی بٹورنے میں مصروف ہے جو کہ اسٹور مالکان سے ڈائریکٹ ٹیلیفونک بات کر کے اپنا حصہ پتی لیتا ہے۔

دونوں اضلاع کی عوام کو عطائی ڈاکٹروں اور دو نمبر میڈیسن چلانے والے میڈیکل اسٹور والوں کر رحم و کرم پہ چھوڑدیا گیا ہے۔ میڈیا ٹیم کی سروے کے مطابق اسٹور میں کام کرنے والا آدھے سے زیادہ نان ٹیکنیکل اسٹاف، غیر رجسٹرڈ کمپنیوں کی غیر معیاری انسانی جان لیوا ادویات، بغیر بل کے انتہائی مہنگے ریٹ میں فروخت، گرمی و سردی کے موسم میں دوائیوں کو محفوط رکھنے کے لئے جو ٹمپریچر بغیر ائیرکنڈیشنڈ اور کچھ ادویات جو فریزر میں رکھی جاتی ہیں وہ ہائے ٹمپریچر گرمی میں رکھی جا رہی ہیں۔

ڈاکٹروں کی جانب سے مختلف کمپنیوں کی طرف سے ملنے والی آسائشیں گاڑیاں دبئی ٹوئرز کے بدلے لکھی جانے والی دوائیاں بھی اسٹور مالکان رشوت کی خاطر چلانے لگے جس کی وجہ سے مرض ختم ہونے کے بجائے نئی بیماریاں پھیل گئیں۔ کئی لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام اور محکمہ صحت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری نوٹس لے کر انسانی جانوں سے کھیلنے والے میڈیکل اسٹور مالکان کے خلاف بلاتفریق کاروائی عمل میں لائی جائے اور انسانی زندگیاں بچائی جائیں۔

متعلقہ عنوان :