پی آئی اے کی قانونی ٹیم نے مقامی نیوز چینل کو سی ای او مشرف رسول سیان کے خلاف بے بنیاد خبر چلانے پر لیگل نوٹس بھجوادیئے

گمراہ کن پروپیگنڈہ کیاگیا کہ مشرف رسول کے بیرون ملک سفرپر پابندی ہے جو کہ ان کی شہرت اور کردارکو دانستہ طور پر نقصان پہنچانے کی ایک مذموم کوشش ہے

اتوار جون 18:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) ترجمان پی آئی اے نے کہا ہے کہ قومی ایئر لائن کی قانونی ٹیم نے مقامی نیوز چینل کو پی آئی اے کے صدراور چیف ایگزیکٹو آفیسر مشرف رسول سیان کے خلاف بے بنیاد اور جھوٹی خبر نشر کرنے پر لیگل نوٹس بجھوا دیئے ہیں۔ یہ نوٹس آرڈیننس 2002 کے ہتک عزت کے قانون کی شق 8 اور تعزیات پاکستان 1860 کے تحت نوٹس بھجوائے گئے ہیں ۔

لیگل نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نیوز پروگرام میں غلط خبر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کے بارے میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کیاگیا کہ ان کے بیرون ملک سفرپر پابندی ہے جو کہ ان کی شہرت اور کردارکو دانستہ طور پر نقصان پہنچانے کی ایک مذموم کوشش ہے جس سے ان کی ساکھ متاثر ہو نے کے خدشات بھی ہیں۔ پی آئی اے اپنے قانونی ماہرین کو پیمرا قانون 2002 کے تحت موجود نیوز چینل کے خلاف ان کے لائسنس کے تحت قانونی کاروائی کے اختیار دے چکی ہے ۔

(جاری ہے)

لیگل نوٹس میں اس حقیقت کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر مشرف رسول سیان کی تقرری میرٹ پر اور قانون کے مطابق ہوئی۔ انہوں نے اکنامکس میں PHD کی ڈگری جارجیاسٹیٹ یونیورسٹی جس کا شمار دنیا کی بہترین جامعات میں ہوتا ہے اور یونیورسٹی کالج لندن سے ڈویلپمنٹ مینیجمنٹ میںMSC کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے جس کے نصاب میں ایوی ایشن بھی شامل ہے ۔

اس کے علاوہ وہ بیرون ملک اور پاکستان میں اعلیٰ اداروںسے منسلک بھی رہے ہیں۔مزید برآں نیوز چینل کی جانب سے غلط خبرنشر کی گئی جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے ڈاکٹر سیان کے بیرون ملک سفر پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے اور وہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں منعقد ہونے والی ایاٹا کی سالانہ جنرل میٹنگ میں شرکت کے لئے باقاعدہ طور پر مدعو کئے گئے ہیں ۔

اس میٹنگ میں دنیا بھر کی ائر لائن کے چیف ایگزیکٹو شرکت کرتے ہیں اور پی آئی اے بھی اس کی بہت پرانی ممبر ہے۔ چیف ایگزیکٹو اور ان کی فیملی کو جاری کئے جانے والے ٹکٹ انٹرلائن ٹکٹ کے قواعد کے مطابق ہیں اور یہ ایاٹا کی قرارداد788 کے تحت جاری ہوتے ہیں۔ چونکہ پی آئی اے آسٹریلیا کے لئے پروازیں نہیں چلاتی اس لئے پارٹنر ائر لائن کے ساتھ معاہدے کے تحت ٹکٹ جاری ہوتے ہی۔

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ چند شر پسند عناصر اپنے مفادات کے لئے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اور وہ میڈیا کو غلط اطلاعات دے کر استعمال کر رہے ہیں جس سے قومی ائر لائن کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ زندگی بھر کی کمائی ہوئی عزت، وقار اور کام سے لگن کو غلط خبروں کے ذریعے تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے چیف ایگزیکٹو اور پی آئی اے دونوں کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ہتک عزت 2002 کے قانون کے تحت جاری کردہ نوٹس میں جس شخص کی عزت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہو وہ اس کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر سکتا ہے جبکہ تعزیات پاکستان کے کوڈ1860 اور الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کے تحت بھی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔