سموک بم پھٹنے سے جھلس کرشدید زخمی ہونے والا بچہ ٹیچنگ ہسپتال میں دم توڑ گیا۔متاثرہ تین بچے برن یونٹ کھاریاں منتقل

اتوار جون 20:40

ایبٹ آ باد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) سموک بم پھٹنے سے جھلس کی شدید زخمی ہونے والا ایک بچہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں دم توڑ گیا ۔جھلسنے والے تین بچے برن یونٹ کھاریاں میں منتقل کردئیے گئے۔ایس ایچ اوتھانہ نواں شہر عبدالغفور کے مطابق نواں شہر کے نواحی علاقہ میرامندروچھ میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے تربیت کی غرض سے گولہ و بارود استعمال کیا۔

تاہم واپسی پر ان سے ایک سموک بم موقع پر غلطی سے رہ گیا۔ ہفتہ کے روز نواں شہر کے ایک نجی اسکول کے چاربچے تیسری کلاس کے خیبرعلی ولد محمد وحید،تیمور ولد حنیف اور پانچویں کلاس کا عبداللہ ولد محمد زاہداوراس کا بھائی سیف اللہ سکول سے واپسی پر فائرنگ رینج سے گزرے۔ جہاں ان کو سموک بم پڑا ہوا ملا۔ چاروں بچے اس کے ساتھ کھیل رہے تھے ۔

(جاری ہے)

اس دوران سموک بم پھٹ گیا۔

جس کے نتیجے میں چاروں بچے بری طرح جھلس گئے۔ دوبچوں کے جسم سو فیصد جھلس گئے ۔ جنہیں مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایوب ٹیچنگ ہسپتال پہنچایا۔ مقامی ذرائع کے مطابق سیف اللہ جوکہ بہت زیادہ جھلس گیاتھا۔ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ پاک فوج کے اعلیٰ حکام نے جھلسنے والے تین بچوں کو فوری طور پر کھاریاں کے برن یونٹ میں منتقل کردیا ہے۔

جہاں ان کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ ایبٹ آباد کے شہریوں نے جھلسنے والے غریب بچوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیاہے۔واضح رہے کہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں برائے نام برن یونٹ ہے۔ یہاں نہ پلاسٹک سرجن ہے اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر تعینات ہے۔ اوربرن کا علاج انتہائی مہنگا اور طویل ہوتاہے۔ ہزارہ کے اراکین اسمبلی کی نااہلی کی وجہ سے ایبٹ آباد میں کوئی برن یونٹ نہیں بنایا جاسکاہے۔ اور نہ ہی پورے ہزارہ کی کسی ہسپتال میں کوئی پلاسٹک سرجن تعینات کیاگیاہے۔ جس کی وجہ سے آگ سے متاثرہ لوگ علاج معالجے کیلئے پنجاب کا رخ کرتے ہیں۔