صدارتی ایوارڈیافتہ پشتوزبان کے نامور محقق،دانشور،شاعراور ادیب پروفیسر داورخان دائود انتقال کرگئے

اتوار جون 21:00

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) صدارتی ایوارڈیافتہ پشتوزبان کے نامور محقق،دانشور،شاعراور ادیب پروفیسر داورخان دائود انتقال کرگئے انہوں نے اب تک بیس کتابیں اور درجنوں تحقیقی مقالے لکھے ہیں پروفیسر داورخان دائود فروری 1940کو لنڈی ارباب پشاو رمیں عبدالمجید کے ہاں پید اہوئے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے سے حاصل کی اور پشاور یونیورسٹی سے ایم اے پشتو ، ایم اردو، ایم اے انگلش کی ڈگریا ں حاصل کی۔

1969ء میں بحیثیت انگریزی ادب کے استاد مقرر ہوئے اورسال 2000ء میں ملازمت سے ریٹائرڈہوئے اسی دوران انہوں نے کئی کتابیں لکھی جس میں پشتو ٹپہ، خوشحال اور فوکلور، حمزہ شنواری ایک مطالعہ ، رحمان بابا ژوند اورتعلیمات ، محمد عظیم الشان ، پشتو ادب پر فارسی کے اثرات، پشتو لغت ،سخن ہائے گفتنی اور دیگر شامل ہیں ۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ انہوں نے درجنوں ایوارڈزاور توصیفی اسناد بھی حاصل کی ہے ۔

پروفیسر داورخان دائود قلیل مدت بیماری کے بعد گزشتہ روز انتقال کرگئے ان کی نماز جنازہ ابائی قبرستان لنڈی ارباب میں اداہوئی ۔ نماز جنازہ میںاہل قلم حضرات ، پروفیسرز، ڈاکٹرز،سماجی و سیاسی شحصیات نے شرکت کی ۔وہ ڈاکٹر محمد ادریس ائی سپیشلسٹ (ایل ار ایچ) ،،ڈاکٹر نفیس ہیومیو پیتھک کے والد جبکہ گل افتاب اے جی افس کے چچا تھے ۔

متعلقہ عنوان :