سید جلال محمود شاہ نے حلقہ این اے 225 اوراین اے 235 اور پی ایس 80 سے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کردیا

زین شاہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 214 جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 39 سے انتخابات میں حصہ لیں گے نیا نامزدگی فارم کرپشن چھپانے کی کوشش ہے جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائیگا، سربراہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی

اتوار جون 21:00

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ نے قومی اسمبلی کے دو حلقوں حلقہ این اے 225 اوراین اے 235 اورسندھ اسمبلی کے ایک حلقہ پی ایس 80 سے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کردیا ہے جبکہ نائب صدرزین شاہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 214 جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 39 سے انتخابات میں حصہ لیں گے ۔

علاوہ ازیں سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کے سینئیرنائب صدرسید زین شاہ نے کاغذات نامزدگی کے لیے پرانے فارم کی بجائے نیا فارم بحال کرنے کی مذمت کی ہے اورکہاہے کہ نیا نامزدگی فارم پیپلزپارٹی اور دیگرسیاسی جماعتوں کی کرپشن چھپانے کی کوشش ہے جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا نئے نامزدگی فارم کی بحالی زرداری اوراس کے حواریوں کوخوش کرنے کی کوشش ہے ۔

(جاری ہے)

وہ حیدرمنزل پرسندھ یونائیٹیڈ پارٹی کے امیدواروں کوپارٹی ٹکٹ کے اجراء کے لیے ہونے والے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ پارٹی ترجمان خواجہ نوید امین کے مطابق پیپلزپارٹی کی حکومت نے انتخابات سے پہلے دھاندلی منصوبہ بنایا ہے جسے ہم کسی صورت پورا نہیں ہونے دیں گے ۔ سید زین شاہ کامزید کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی انتخابی دھاندلی کے لیے حسب منصوبہ پولنگ اسکیمز میں اچانک ردوبدل کے علاوہ راتوں رات پولنگ اسٹیشن کی تبدیلی جیسے حربے آزمانے کی سازش تیارکی ہے جس کے خلاف بھرپورآوازاٹھائیں گے انہوں نے کہاکہ پنجاب کے مقابلے میں سندھ میں نیب نے کرپشن میں ملوث وزراء کے خلاف کارروائی کا آغازنہیں کیا ہے جوسندھ کے ساتھ بڑی زیادتی ہے گذشتہ دس برسوں میں پیپلزپارٹی نے سندھ کی معیشت کا گلا گھونٹا ہے۔