100 روزہ پلان کے بعد بہت جلد بلوچستان کیلئے 5سالہ پروگرام کااعلان کرینگے ،4جون کو مرکزی وصوبائی پارلیمانی بورڈ کااجلاس ہوگا ،امیدواروں کافیصلہ خود عمران خان کرینگے، صوبائی صدر تحریک انصاف سردار یار محمد ر

اتوار جون 21:00

100 روزہ پلان کے بعد بہت جلد بلوچستان کیلئے 5سالہ پروگرام کااعلان کرینگے ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) پاکستان تحریک کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند نے کہاہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے 100 روزہ پلان کے بعد بہت جلد بلوچستان کیلئے 5سالہ پروگرام کااعلان کرینگے ،4جون کو تحریک انصاف کے مرکزی وصوبائی پارلیمانی بورڈ کااجلاس ہوگا جس میں صوبائی وقومی اسمبلی کے امیدواروں کافیصلہ عمران خان خود کرینگے،عوام اپنی سوچ اور ضمیر کیمطابق امیدواروں کوووٹ دیں ،ہمیں مفاد کی سیاست کو چھوڑ کر بلوچستان کے حقوق ،ساحل وسائل کیلئے سیاست کرناہوگی ،دن اور ہفتے میں بننے والی جماعتوں کا مستقبل تاریک ہے جو اتنے ہی عرصے میں ڈیزول ہوجاتے ہیں ۔

وہ کوئٹہ پریس کلب میں سابق صوبائی وزیر شاہ نواز مری کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پرپریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے قاسم خان سوری ،سردارخادم حسین وردگ ،نورالدین خان کاکڑ، ڈاکٹرمنیر بلوچ ،نواب خان دمڑ ودیگر بھی موجود تھے ۔اس موقع پر سابق صوبائی وزیر شاہ نواز مری نے باقاعدہ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کااعلان کیا اور کہاکہ میں نے بہت سوچ وبچار کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کافیصلہ کیاہے اس سے قبل بھی سیاسی جماعتوں نے اقتدار میں آکر ترقی وتبدیلی کے دعوے کئے مگر بلوچستان کی صورتحال آج بھی وہی ہے ہمیں عمران خان کے سنگ بلوچستان او رپاکستان کیلئے ترقی کیلئے اپنا بھرپور کرداراداکرناہوگا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سرداریارمحمدرند نے میر شاہ نواز مری کو پاکستان تحریک انصاف میں ساتھیوں سمیت شمولیت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہرکی کہ وہ تحریک انصاف کو صوبے اور ملک بھر میں فعال ومنظم بنانے میں اپنا کرداراداکرینگے ۔انہوں نے کہاکہ میر شاہ نواز مری کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور انہوں نے اپنے دور اقتدار میں علاقے کے عوام کی بھر پور خدمت کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف مسلسل جدوجہد کا نام ہے اس سیاست پر اعتماد نہیں کہ صبح ایک جگہ رات دوسری جگہ ہو اقتدار کے لئے لوگ ایمان بھیجتے ہیں 22 سالہ تاریخ میں عمران خان کی جدوجد نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی2013ء میں تحریک انصاف نے مرکز میں حکومت کیوں نہیں بنائی ڈی آر اوز کا معاملہ تھا اور نوازشریف کی بیس سالہ حکمرانی میں عوام کو بے وقوف بنایا وہ جمہوری حکمران نہیں بلکہ ما فیا کے طور پر حکمرانی کی ملک کی سالمیت ، افواج ، عدلیہ اور جمہوریت کو چیلنج کر رہے ہیں اور آج بھی گھر میں بیٹھ کر اقتدار کے مزے لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بہت پرانے پارلیمنٹرین ہے اور جمہوری روایات کی پاسداری نہیں کی ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں تیس سال سے باور کرایا گیا کہ اس جماعت کو جوائن کر لو جو ہمیشہ اقتدار میں رہے بلوچستان حساس صوبہ ہے اپنے روایات حقدار رکھتے ہیں سیاستدانو ں اور صاحب اقتدار لو گوں سے اپیل ہے کہ بلوچستان کے حالات کو اس نہج پر نہ لے جائیںکہ پھر بلوچستان اتنا برداشت نہ کر سکے۔

انہوں نے کہاکہ آنے والا عام انتخابات میں پی ٹی آئی غیر متوقع نتائج دینگے اور حکومت بھی تحریک انصاف کی ہو گی، افسوس اس بات پر ہے کہ ہمارے کچھ لوگ ان لو گوں کیساتھ جا رہے ہیں جو ہمیشہ مفادات اور مراعات کے سیاست کو دائو پر لگایا ہے اقتدارکے پارٹی میں شامل کرنے والے عوام عام انتخابات میں مستردکرے ہمیں مایوس نہیں ہونا چا ہئے عام انتخابات میںسیٹ تو سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کے لئے ہماری بات چیت چل رہی ہے ہماری بد قسمتی ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ آ پ کے پارٹی کے سربراہ کا تعلق کسی بھی جماعت کیساتھ ٹھیک نہیںتو میں خان صاحب سے بھی یہی سوال پوچھا تو ان کاکہناتھاکہ ہم کسی بھی لٹیرے اور چوروں کیساتھ انتخابی الائنس نہیں کرینگے انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہاکہ دن اور ہفتوں میں بننے والی جماعتیں اتنی جلدی ڈیزول ہوجاتی ہے ان کی کوئی مستقبل اور نظریہ نہیں ہوتا انہوں نے کہاکہ ہم جہاں ہیں وہاں رہنے دیاجائے یہاں بہت سارے پردہ نشین ہیں ان پر پردہ رہنے دیں انہوں نے کہاکہ عوام اپنی سوچ اور ضمیر کے مطابق ووٹ دیں پی ٹی آئی مرکز کی جانب سے 100سالہ پلان کے بعد بہت جلد بلوچستان کی 5سالہ پروگرام کااعلان کرینگے ،4جون کو تحریک انصاف کے مرکزی وصوبائی پارلیمانی بورڈ کااجلاس ہوگا جس میں صوبائی وقومی اسمبلی کے امیدواروں کافیصلہ عمران خان خود کرینگے،عوام اپنی سوچ اور ضمیر کے مطابق امیدواروں کوووٹ دیں ،ہمیں مفاد کی سیاست کو چھوڑ کر بلوچستان کے حقوق ،ساحل وسائل کیلئے سیاست کرناہوگی ۔