شفاف الیکشن ہوئے تو (ن)لیگ کوہرانا بہت مشکل ہے

الیکشن تاخیرسےاکتوبر میں بھی ہواتون لیگ 84 سےزائد سیٹیں جیت جائےگی،اکتوبرکے بعدالیکشن ہوا تون لیگ کوبیانیہ برقراررکھنے کیلئے حکمت عملی بنانا ہوگی۔سینئر تجزیہ کارمحمود صادق کی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار جون 21:34

شفاف الیکشن ہوئے تو (ن)لیگ کوہرانا بہت مشکل ہے
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔03 جون 2018ء) : سینئر تجزیہ کار اور چیئرمین دن گروپ محمود صادق نے کہا ہے کہ صاف شفاف الیکشن ہوئے تون لیگ کوہرانا بہت مشکل ہے،،الیکشن تاخیر سے اکتوبر میں بھی ہواتون لیگ 84سے زائدسیٹیں جیت جائے گی،اکتوبرکے بعدالیکشن ہوا تون لیگ کوبیانیہ برقراررکھنے کیلئے حکمت عملی بنانا ہوگی،جتنے اداروں نے بھی نوازشریف کومارنے اور سزا دینے کی کوشش کی ان کا فائدہ نوازشریف کو ہوا ہے۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نوازشریف کی سب سے بڑی اچیومنٹ یہ تھی کہ انہوں نے اپنی حکومت کے پانچ سال پورے کروالیے۔جتنے فل سٹاپ اور کومازلگے ،ان کواقتدار سے نکالنے کی کوشش ہوئی۔ان کونکالا گیا لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی حکومت کے پانچ سال پورے کروالیے۔

(جاری ہے)

یہ پانچ سال حکومت ان کی نہیں تھی۔ان کوجہاں جہاں موقع ملاانہوں نے کام کیا۔

انکے منشور کا حصہ تھا کہ دہشتگردی ختم کروائیں گے ،انہوں نے دہشتگردی ختم کروائی۔پھر انہوں نے ایک سوال آپریشن کاآغاز راحیل شریف نے کیا تھا؟کے جوا ب میں کہا کہ فوج کی ٹریننگ شوٹ ٹوکل کی ہوتی ہے۔لیکن ہم فوج کوسیاست میں لے آتے ہیں۔۔فوج کا کام آپریشن کروانا یا بند کروانا نہیں ہوتا۔میاں صاحب نے کراچی میں آپریشن کروایا اور اس آپریشن کی مانگ الطاف حسین سے کروائی گئی۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ کا وعدہ پورا کیا گیا۔2013ء میں مسلم لیگ نے اپنا پورا ہوم ورک کیا تھا۔ تحریک انصاف اپنی جماعت کو منظم ہی نہیں کرسکی۔انہوں نے کہاکہ اگر الیکشن ایک سال پہلے ہوجاتا توتحریک انصاف کو محنت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔وہ کلین سویپ کرجاتی۔لیکن مجھے لگتا ہے کہ نوازشریف کو ایک سال پہلے جس نے بھی نکالا اس نے بڑااحسان کیا ہے۔انہوں نے باہر نکل کرمجھے کیوں نکالا؟ سے ووٹ کو عزت دوبیانیہ مضبوط بنالیا ہے۔

اگر صاف شفاف الیکشن ہوجائیں تون لیگ کوہرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اکتوبر تک بھی الیکشن ہوجائیں تومسلم لیگ ن 84سیٹیں لے جائے گی۔اکتوبر کے بعد الیکشن ہوئے تون لیگ کودیکھنا ہوگا کہ اپنے بیانیے کو اتنے لمبے عرصے تک کیسے برقرار رکھنا ہے۔جتنے اداروں نے بھی نوازشریف کومارنے اور سزا دینے کی کوشش کی ان کا فائدہ نوازشریف کو ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس الیکشن ملتوی کروانے کے خلاف واضح اعلان کرچکے ہیں،انہوں نے کہا کہ الیکشن 25جولائی کو ہی ہوں گے۔لیکن دوسری جانب حالات یہ ہیں کہ تحریک انصاف الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کا جوائنٹ آپریشن جودونوں نے سینیٹ الیکشن کیلئے بلوچستان میں کیا تھا۔توتحریک انصاف اتحاد کرکے بھی آج کی تاریخ میں الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف دونوں اس وقت مخمصے کا شکار ہیں۔پیپلزپارٹی بڑی جماعت ہے وہ فیصلے کرنا جانتی ہے لیکن ان کوعوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔کیونکہ پیپلزپارٹی نے عوام کیلئے کام نہیں کیے۔ دوسری جانب تحریک انصاف ہے جس کو عوامی حمایت حاصل ہے لیکن وہ اپنے فیصلے ہی نہیں کرپارہی ہے۔۔تحریک انصاف میں ایک شخص عمران خان ہے ،یہ ان کی مقبولیت کی عمدہ مثال ہیں کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔

لیکن ان کوکچھ نہیں آتا۔یہ فیصلے کرتے ہیں کہ جب ان کوجہانگیرترین کچھ بولتے ہیں تویہ وہ بات کردیتے ہیں جب شاہ محمود قریشی کچھ کہتے ہیں تووہ بول دیتے ہیں۔چنانچہ فیصلے کرنا ان کی قوت سے باہر ہے۔یعنی ایک سیاسی جماعت ہوتی ہے جس میں ایک لیڈر ہوتا ہے۔وہ فیصلے کرتا ہے۔لہذا تحریک انصاف 2مہینوں میں الیکشن نہیں لڑسکتی۔ یہ پانچ سال سے الیکشن الیکشن کررہے ہیں اور ہم یہی کہتے تھے کہ تحریک انصاف الیکشن کی تیاری کرلے۔

۔انہوں نے ایک سوال پرکہا کہ الیکشن میں تاخیر کافائدہ ن لیگ کونہیں ہے کیونکہ وہ اپنی انتخابی مہم پچھلے 10مہینوں سے چلا رہی ہے۔پیپلزپارٹی سندھ میں پھر جیتنے کی پوزیشن میں ہیں اس لیے وہ بھی الیکشن میں تاخیر نہیں چاہتے۔انہوں نے کہا کہ ایک سسٹم چاہتا ہے کہ نوازشریف کسی صورت واپس نہ آئے۔اس کیلئے انہوں نے پیپلزپارٹی کو قبول کرلیا۔ لیکن پیپلزپارٹی ووٹ لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

جوڑتوڑ یا فیصلے کرسکتی ہے۔جوجماعت ووٹ لے سکتی ہے ان کے پاس فیصلے کرنے کی قوت ہی نہیں ہے۔انہوں نے ادھرادھر سے لوگ پکڑ کرجماعت بنالی ہے اور پی ٹی آئی کارکن پارٹی قیادت سے ناراض ہیں۔محمود صادق نے کہا کہ میں شرط لگا سکتاہوں کہ عمران خان کے پاس امیدوار چننے کا بھی وقت نہیں ہے۔کیونکہ ان کی کچھ ایسی مصروفیت ہے جس کے باعث وہ پچھلا الیکشن بھی ہار گئے تھے۔

آپ اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ وہ خیبرپختونخواہ اور پنجاب کیلئے نگراں وزیراعلیٰ کے نام کا فیصلہ نہیں کرپارہے۔کئی لوگوں کے نام لیے اور ان کوگندا اور شرمندہ کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی مقبولیت ہے لوگ ان کو پسند بھی کرتے ہیں۔لیکن حکومت کی ان کو اے بی سی کا بھی پتا نہیں ہے۔۔عمران خان کے بارے میں اسد عمر نے کہا کہ خان صاحب نے کسی منظم ادارے میں کام نہیں کیا۔

عمران خان نے خود بھی کہا کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی نوکری نہیں۔میں 10دن ایک اسٹور پرنوکری کی تھی اس دوران میری اسٹور مینجر سے لڑائی ہوگئی تھی۔جب آجائیں گے تووزراء کی سلیکشن پر لڑائی ہوگی اور وزراء کی سلیکشن کے بعد ہرادارے میں لڑائی ہوگی تواس طرح ملک نہیں چلتے۔شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی چلا کوئی اور رہا ہے جبکہ عمران خان کے نام کا چندا آتا ہے کیونکہ ان کولوگ پسند کرتے ہیں۔

ان اداروں میں لوگوں کوسلیکٹ بھی عمران خان نے نہیں کیا۔انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ ناصر کھوسہ کا نام اس لیے دیا کہ ن لیگ کبھی نہیں مانے گی کیونکہ ان کے بھائی نے نوازشریف کو سیسلین مافیا کہا۔لیکن ن لیگ توکسی کو بھی بنانے کیلئے تیار ہے کیونکہ وہ اقتدار کے مزے لے چکی ہے ان کوپتا ہے کہ نگراں حکومت کو کیسے قابوکرنا ہے۔