لاہور، پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ میں بے ضابطگیوں کے خلاف کیس کی سماعت

یہ کوئی سلطنت تھی جس کے وزیر اعلی پنجاب سلطان تھے کہ جسے چاہے مرضی بھرتی کر کے لاکھوں تنخوائیں دیتے رہے ،چیف جسٹس کے ریمارکس پی کے ایل آئی میں 20 ارب روپے کے اخراجات کا فرانزک آڈٹ کا حکم

اتوار جون 22:40

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ میں بے ضابطگیوں کے خلاف کیس میں ریمارکس دئیے ہیں کہ یہ کوئی سلطنت تھی جس کے وزیر اعلی پنجاب سلطان تھے کہ جسے چاہے مرضی بھرتی کر کے لاکھوں تنخوائیں دیتے رہے چیف جسٹس نے پی کے ایل آئی میں 20 ارب روپے کے اخراجات کا فرانزک آڈٹ کا حکم دے دیا تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ میں بے ضابطگیوں کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت کی چیف جسٹس کے حکم پر پی کے ایل آئی کے سربراہ ڈاکٹر سعید اختر پر سخت اظہار برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہ ڈاکٹر صاحب بتائیں کہ آپ کا تجربہ کیا لاکھ روپے تنخوا لینے والے افسر کو کونسے ایسے سرخاب کے پر لگ گئے ایسا کونسا قابلیت بڑھانے والا انجکشن لگوا لیا کہ آپکو سیدھا 12 لاکھ پر تعینات کر دیا گیا عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مزید ریمارکس دئیے کہ ڈاکٹر سعید الٰہی آپ صرف ایک سرجن ہیں آپکا بطور سربراہ تقرر کیسے ہو گیا آپکا نام ای سی ایل میں ڈلوا دیتے ہیں احتساب کے لیے تیار رہیں آپکو قوم کی ایک ایک پائی واپس کرنا ہو گا عدالت نے واضح کیا کہ پسندیدگی کی بنیاد پر نوازشات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی جس پر ڈاکٹر سعید الٰہی نے جواب دیا کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں قوم کی بہتری کیلئے بروئے کار لائے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ "آپے کھادا آپے پیتا آپے واہ واہ کیتا""چیف جسٹس نے ڈاکٹر سعید الٰہی سے استفسار کیا کہ ایک عالی شان گھر بنانے کیلئے 3 سے 4 ہزار سکوائر فٹ خرچہ آتا ہے آپ بتائیں انسٹیٹیوٹ کی تعمیر کیلئے کیا ٹھیکہ دیا جس پر ڈاکٹر سعید الٰہی نے بتایا کہ 10 ہزار سکوئیر فٹ ٹھیکے پر تعمیر کروائی گئی جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جب وہاں کا دورہ کیا تو مجھے پتہ ہے کہ وہاں تعمیرات کا معیار ہے عدالت نے پی کے ایل آئی میں 20 ارب روپے کے اخراجات کا فرانزک آڈٹ کا حکم دیتے ہوئے 3 ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی۔