70سالوں میں تبدیلی کے نعرے بہت سنے مگر تبدیلی ایک فیصد بھی نہیں دیکھی ،منظور خان کاکڑ

عوام نے صوبے کی تمام جماعتوں اور لوگوں کو آزمایا مگر ہماری جماعت کے فیصلے بنی گالہ ،بلاول ہائوس یا مری میںنہیں بلکہ بلوچستان میں ہی ہونگے بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال سیکورٹی اداروں کی مرہون منت ہے ،شمولیتی پروگرام سے خطاب

اتوار جون 22:40

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل منظور خان کاکڑ نے کہاہے کہ 70سالوں میں تبدیلی کے نعرے بہت سنے مگر تبدیلی ایک فیصد بھی نہیں دیکھی ،عوام نے صوبے کی تمام جماعتوں اور لوگوں کو آزمایا مگر ہماری جماعت کے فیصلے بنی گالہ ،بلاول ہائوس یا مری میںنہیں بلکہ بلوچستان میں ہی ہونگے،،بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال سیکورٹی اداروں کی مرہون منت ہے ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے خاتون سماجی رہنماء ثناء درانی ،عظمیٰ بلوچ ،فردوس بلوچ ،ارم مرزا ودیگر کی بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ شمولیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بلوچستان عوامی پارٹی کے ملک خدابخش لانگو ،علائوالدین کاکڑ،چوہدری شبیر ،گل احسن اور حاجی احمد جان ودیگر بھی موجود تھے ۔

(جاری ہے)

بی اے پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل منظور احمد کاکڑ نے نئے شامل ہونے والوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ نئے شامل ہونے والے بی اے پی کو بلوچستان میں فعال ومنظم بنانے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کارلائینگے ۔انہوں نے کہاکہ 70سالوں سے لیکر اب تک جب بھی تبدیلی کا نعرہ لگاہے مگر اس کے بعد صوبے کو ویسا ہی پایاہے وفاقی جماعتوں نے بلوچستان کی ترقی کیلئے کوئی کردارادانہیں کیاہے مگر ہمیشہ بلوچستان کے حقوق کے نام پر سیاست کی ہے انہوں نے کہاکہ انگریزوں نے جاتے جاتے کچھ چیزیں بنا کردی ہیں جس سے آج بھی ہم مستفید ہورہے ہیں مگر اس کے بعد آج تک کوئی ایسا منصوبہ ،کوئی ایسا ہسپتال ،کالج یا انڈسٹری نہیں ہے جس سے مستفید ہوسکے انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں بے روزگاری بہت ہے وفاق کی جانب سے ایک بھی منصوبہ نہیں دیاگیاہے ،عوام نے صوبے کی تمام جماعتوں اور لوگوں کو آزمایا مگر ہماری جماعت کے فیصلے بنی گالہ ،بلاول ہائوس یا مری میںنہیں بلکہ بلوچستان میں ہی ہونگے انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتیں ہمارے لئے قابل احترام ہے ہم کسی پر تنقید نہیں کرناچاہتے مگر گزشتہ سالوں کے دوران صوبے کے عوام کے ساتھ جو کچھ ہوا اس پر خاموش نہیں رہ سکتے انہوں نے کہاکہ معاشرہ اس جانب جارہاہے کہ ہمارا ایک دوسرے پر بھروسہ ختم ہورہاہے انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے کوئی گھر سے نہیں نکل سکتا تھا ،،ڈاکٹر وکیل ،عام آدمی اپنے گھر میں محصور ہوکر رہ گیاتھا چند ممالک پاکستان کے خاتمے کے درپے تھے انہوں نے کہاکہ آج کوئٹہ شہر میں بازار 4بجے تک کھلارہتاہے جو ہمارے اداروں کی مرہون منت ہے انہوں نے کہاکہ ہم پسماندگی سے دوچار ہے اگر ہمیں اپنے بچوں کو بہترمستقبل دیناہے تو اس کیلئے کوالٹی ایجوکیشن ہونی چاہیے ،بے روزگاری کے خاتمے کیلئے پرائیویٹ سیکٹر ،زراعت ودیگر شعبوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے مگر ہمارے حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے پرائیویٹ سیکٹر اور زراعت ودیگر شعبے زوال کاشکارہے انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کی ترقی میں مرد کے ساتھ ساتھ خواتین بھی اپنا کرداراداکریں مرد اور خواتین کے حقوق برابر ہے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی نے سیاست کو ڈرائینگ روم سے نکال کر گلی کوچوں میں لایاہے جو پارٹی ورکر پارٹی کی فعالیت اور منظم ہونے کیلئے کام کرے اس کو اس کی محنت کا پھل ملے گا ہم ڈرائینگ روم والے کو کارکنوں پر مسلط نہیں کرتے بلوچستان عوامی پارٹی وہ واحد جماعت ہے جس میں تمام مکتبہ فکر کے لوگ شامل ہے چاہیے بلوچ ہو یا پشتون ،پنجابی ہو یا ہزارہ تمام لوگ بی اے پی کے پلیٹ فارم سے اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرے گاانہوں نے کہاکہ کسی بھی پارٹی میں یونٹ اہم حصہ ہوتاہے جس کیلئے ہمیں کام کرناہوگا انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی ترقی کیلئے باہر سے کوئی نہیں آئے گا ہمیں خود ترقی کیلئے کرداراداکرناہوگا۔

بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والی ثناء درانی کاکہناتھاکہ بلوچستان عوامی پارٹی کامنشور پڑھ کر احساس ہوا کہ 70سالوں سے صوبے اورملک میں جن پارٹیوں نے تبدیلی کے نعرے لگائے ان میں سے کوئی بھی تبدیلی نہیں لاسکے بلوچستان عوامی پارٹی اپنے منشور کے ذریعے صوبے میں تبدیلی لائے گی ،انہوں نے کہاکہ بی اے پی صوبے میں کرپشن کے خلاف، خواتین کے حقوق ،ہیومن رائٹس اور دیگر حوالے سے واضح پالیسی رکھتی ہے انہوں نے کہاکہ سابقہ حکومتوں کی جانب سے پی ایس ڈی پی میں خواتین کیلئے کوئی بھی ایسا منصوبہ نہیں تھاکہ اس میں خواتین ڈویلپمنٹ کیلئے اپنا کرداراداکرسکے انہوں نے کہاکہ سابقہ صوبائی حکومت کی جانب سے پی ایس ڈی پی میں شامل پروجیکٹس صرف کنسٹریکشن تک محدود تھے تاکہ وہ ان منصوبوں کواپنے سیاسی مفاد کیلئے استعمال کرسکتیے انہوں نے کہاکہ میں منظور خان کاکڑ کی قیادت میں باقاعدہ بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کااعلان کرتی ہوں انہوں نے کہاکہ ہمیں ان لوگوں کو پارٹی میں لانا ہوگا جو صوبے کی ترقی کیلئے کرداراداکرناچاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ میں آج دعویٰ کرتی ہوں کہ بلوچستان کی مائیں ،بہنیں اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر صوبے کی ترقی میں اپنا بھرپور کرداراداکرینگی