مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مشکلات میں ساتھ دینا چاہیے ، علامہ ساجد نقوی

اتوار جون 22:50

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) قائد ملت جعفریہ پاکستان اور اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے اتحاد بین المسلمین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مشکلات میں ساتھ دینا چاہیے اگر کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان کے مسائل کے حل میں دلچسپی نہ ہو تو اسے اپنے مسلمان ہونے پر غور کرنا چاہئے کیونکہ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ تم ایک امت ہو اور امت کی بقا ہر شے پر مقدم ہے۔

خاص طور ان حالات میں جب غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں میں سینکڑوں معصوم اور بے گناہ انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں لہذا جمعةالودع کے موقع پر اپنے فلسطینی بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے خصوصی ریلیاں نکانے اور ان میںشرکت کر کے اسرائیل کے خلاف آواز بلند کرنا لازم و ناگزیر ہے جس میں تمام مسلمانوں کو بلا تقریق شریک ہونا چاہیے ۔

(جاری ہے)

علامہ ساجد نقوی نے فتح جنگ بدر کے حوالے سے گفتگو میں کہا کہ مجاہدین بدر نے قلت کے باوجود جس عزم اور استقلال سے اسلام کا دفاع اور اسلام دشمن قوتوں کا مقابلہ کیا اس کی مثال غزوہ بدر سے پہلے اور بعد میں کہیں نہیں ملتی۔

کثرت پر قلت کا غلبہ پہلی مرتبہ غزوہ بدر میں دیکھنے کو ملا جس سے رہتی دنیا تک مسلمانوں اور مجاہدین کو سبق ملا کہ وہ افراد کی قلت اور وسائل کی کمی کی وجہ سے پریشان نہ ہوں بلکہ ایمان، اعتقاد، یقین اور سچے جذبے سے کام لیں تو بڑی سے بڑی ظالم طاقت کو بھی شکست فاش دی جا سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم جیسے عظیم سپہ سالار اور الہی قیادت کی زیر نگرانی اسلام کے پہلے معرکے میں جس طرح جرات و بہادری اور قربانی کی مثالیں رقم کی گئیں وہ اسلام کا اثاثہ اور سرمایہ ہیں۔

محافظ رسالت حضرت علی علیہ السلام نے جس دلیری کے ساتھ سینہ سپر ہوکر کفار اور دشمنوں کو واصل جہنم کیا یہ جذبہ ہر مجاہد اور حریت پسند کے لیے نمونہ عمل ہے اس کے علاوہ شعب ابی طالب میں سختیاں اور پابندیاں برداشت کرنے کے باوجودبنو ہاشم کا اسلام کا دفاع کرنا بھی تاریخ اسلام کی روشن مثال ہے۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ غزوہ بدر اتحاد و یکجہتی ، توکل بر خدا اور قیادت کے احکام اور پالیسیوں پر صدق دل سے عمل کرنے کا واضح مظاہرہ ہے جس سے سبق ملتا ہے کہ جس طرح اصحاب بدر نے بہت کم تعداد میں ہونے اور وسائل کی واضح کمی ہونے کے باوجود یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا ، حکم رسول ﷺ کی اطاعت کی اور اپنے آپ کو قربانی کیلئے پیش کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی اور یقین قلب کے ساتھ شہادت قبول کرتے رہے اسی طرح اگر اس دور کے مسلمان بھی سچے جذبے اور کامل ایمان کے ساتھ اسلام کے دفاع اور اسلام کو اغیار اور دشمن قوتوں کی سازشوں اور حملوں سے بچانے کے لیے اصحاب بدر والا جذبہ پیدا کریں تو کوئی طاقت اسلام کا بال بیکا نہیں کرسکتی۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم ایمان، یقین محکم ، اسلامی جذبے اور خدا و رسول ؐ کی تعلیمات پر عمل کی بجائے مادی وسائل پر بھروسہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس سے ہم نام نہاد سپر طاقتوں کے نرغے میں آتے جا رہے ہیں اگرچہ جدید ٹیکنالوجی کا حصول اور مادی وسائل سے استفادہ بھی ہماری اولین ضرورتوں میں شامل ہے لیکن کامیابی کے لیے فقط مادیت پر یقین کرنا کسی طور درست نہیں ہمیں چاہیے کہ ہم مادی اسباب اور وسائل سے جائز اور مناسب استفادہ کرتے ہوئے اپنی طاقتوں اور صلاحیتوں میں اضافہ کریں اور اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ ہم اسلام اور مسلمین کی حفاظت کا فریضہ انجام دے سکیں۔