پر امن انتخابات کے لئے اقدامات یقینی بنائے جار ہے ہیں ۔ گورنر سندھ

پرفریب نعروں کادور گذرچکا اب کارکردگی ہی عوام میں مقبولیت حاصل کرسکے گی۔ دعوت افطار سے خطاب

پیر جون 00:30

کراچی ۔ 3 جون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) گورنرسندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ عام انتخابات کے پر امن ، شفاف اور منصفانہ انعقاد کے لئے ترجیحی بنیادوں پر بھرپور اقدامات یقینی بنائے جارہے ہیں ، انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی بھرپور شمولیت ، عوام کے آزادانہ اظہار رائے اور ووٹ کے حق کے استعمال کے لئے الیکشن کمیشن کے وضع کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کو عمل درآمد کرنا ہوگا کیونکہ یہ انتخابات قوم کی سمت کا تعین کرینگے۔

جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کاا ظہار انہوں نے اتوار کو پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے دی جانے والی دعوت افطار کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاک سرزمین کے چیئر مین مصطفی کمال، انیس قائم خانی ، رضا ہارون ، ڈاکٹر صغیر احمد ، سنی تحریک کے ثروت اعجاز قادری ، عوامی نیشنل پارٹی کے شاہی سید سمیت عمائدین شہر کی بڑی تعداد شریک تھی ۔

(جاری ہے)

گورنرسندھ نے مزید کہا کہ 25 جوالائی 2018 ء کے روز ملکی تاریخ کے اہم ترین انتخابات منعقد ہونگے جس میں سیاست دانوں اور عوام کو تحمل ، برد باری ، صبر ، برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرناہوگا ، اس روز سیاسی اختلافات اور رنجشوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک وقوم کے بہتر اور روشن مستقبل کے لئے اچھی قیادت کا انتخاب کرنا عوام کی اولین ترجیح ہو نا چاہئے ۔

25 جولائی کو انتخابات کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ تمام سیاسی جماعتوں اور خصوصاً عوام کی ذمہ داری ہے کہ اعلان کردہ تاریخ پر عام انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں ۔ نیب کے اقدامات پر سوال کے جواب میں گورنرسندھ نے کہا کہ احتساب ہونا اچھا عمل ہے لیکن اسے منصفانہ اور شفاف انداز میں ہونا چاہئے اور کسی ایک جماعت یا فرد کے خلاف احتساب کے تاثر کو ہر صورت میں زائل ہونا چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ حکومت نے انتہائی مشکل حالات میں اقتدار سنبھالا اس وقت ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ، توانائی بحران سنگین اور قومی معیشت خطرناک صورت اختیار کئے ہوئے تھی لیکن گذشتہ حکومت نے قومی جذبہ کے تحت دن رات محنت کرکے ملک کے حالات کو بہتر بنایا ، آج پورے ملک میں امن و امان قائم ہو چکا ہے ، توانائی بحران ختم اور قومی معیشت تاریخ کے بلند ترین سطح پر آچکی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ گذشتہ دور میں صوبوں میں مختلف جماعتوں کی حکومت رہی اب عوام کو چاہئے کہ وہ ان کی کارکردگی یا نااہلی کی بنیاد پرمنتخب یا مسترد کریں یہی جمہوریت کا حسن اور ووٹ کی طاقت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرفریب نعروں کادور گذرچکا اب کوئی بھی سیاسی جماعت کارکردگی پر ہی عوام میں مقبولیت حاصل کرسکے گی ،عوام کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے پرکشش منشور نہیں بلکہ عملی اقدامات دکھانے ہونگے ، جو عوام کے مسائل کے حل میں ناکام ہوئے وہ اب پرکشش منشور کا سہارا لے رہے ہیں لیکن چونکہ پاکستان میں میڈیا کے باعث عوام باشعور ہوگئے ہیں ،میڈیا ہر لمحہ عوام کو مسلسل آگاہ کررہا ہے اب ان کے سامنے سب کچھ سامنے آچکا ہے اس لئے انھیں معلوم ہے کہ کون سچا ہے اور کون صرف دعوی کررہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کے وجہ سے ملک بھر سمیت صوبہ میں بھی انتخابی گہما گہمی کم ہے لیکن عید الفطر کے بعد یہ انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہونگی ان سیاسی سرگرمیوں میں سیاست دانوں کو چاہئے کہ وہ اختلاف برائے اختلاف کی بجائے اختلاف برائے اصلاح پر توجہ مرکوز رکھیں اس سے ملک وقوم کی بہتری مضمر ہے ۔ رضاہارون اور ڈاکٹر صغیر نے افطار میں شرکت پر گورنر سندھ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صوبہ کی تعمیر و ترقی میں گورنرسندھ نہایت مثبت کردار کررہے ہیں۔