ڈسٹرکٹ پیرنٹس کمیٹی کا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نجی سکولوں کے خلاف کارروائی کا خیرمقدم

پیر جون 12:10

ہری پور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) ڈسٹرکٹ پیرنٹس کمیٹی نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نجی سکولوں کے خلاف جاری کارروائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے نجی سکولوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کیلئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے، یہ کمیٹی تعلیمی اداروں میں بچوں اور ان کے والدین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر مستقل نظر رکھے گی۔

ڈسٹرکٹ پیرنٹس کمیٹی کے چیئرمین اورنگزیب مغل، جنرل سیکرٹری نیئر عباس جعفری اور پریس سیکرٹری محمودالرحمن نے ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر کی طرف سے نجی تعلیمی اداروں کے وزٹ اور اور بعض کو سیل کرنے پر اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ نجی تعلیمی ادارے ایک مافیا کا روپ دھار چکے ہیں جو حکومتی فیصلوں کو بھی کسی خاطر میں نہیں لا رہے اور اپنے ہی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کے ساتھ ظلم و زیادتیوں میں مصروف ہیں، اب بھی کئی ایک تعلیمی ادارے چھٹیوں کی فیسوں کی وجہ سے بچوں کو چٹھیاں نہیں دے رہے اور چوری چھپے سے سکول کھول رکھے ہیں، بے شمار سکولوں میں پینے کے ٹھنڈے پانی اور جنریٹر کی سہولت موجود نہیں جس کے باعث بچے گرمی سے نڈھال اور بہوش ہو رہے ہیں، بعض تعلیمی اداروں نے چھٹیاں تو دے دی ہیں لیکن بچوں کو چھٹیوں کا کام نہیں دیا اور بچوں کو نوٹس دے دیئے ہیں کہ ان کے والدین سکول میں آ کر فیس جمع کروانے کے بعد بچوں کیلئے چھٹیوں کا کام لیں جو کام نہیں لیں گے ان کے بچوں کو امتحان میں نمبر نہیں دیئے جائیں گے۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں نجی تعلیمی اداروں میں دکانیں کھول کر بھی والدین کو لوٹا جا رہا ہے، بچوںکو یونیفارم اور کتابیں سکول کے اندر سے خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور جو بچے سکول سے نہ خریدیں ان کے ساتھ پورا سال امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے، اسی طرح کئی ایک سکولوں میں سلانٹی پاپڑ اور بسکٹ کی دکانیں بھی قائم ہیں جن میں جعلی اور زائد المیعاد چیزیں کم ریٹس پر خرید کر آگے بچوں پر پوری قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس حوالہ سے ضلعی انتظامیہ سرکاری افسران پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دیں تو چھٹیوں کے مسئلہ کے علاوہ سال کے باقی ایام میں بھی باقاعدہ طور پر سکول کے وزٹ کر کے ان معاملات کو چیک کرے اور بچوں اور ان کے والدین سے ملاقاتیں کر کے ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کر کے ڈپٹی کمشنر کو رپور ٹ دے اور پھر ضلعی انتظامیہ معیار پر پورا نہ اترنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کرے، اس سے جو نجی تعلیمی ادارے ٹھیک کام کر رہے ہیں وہ بھی عوام کے سامنے آئیں گے اور ان کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی، موجودہ صورت حال میں اچھے اداروں کو بھی شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ عنوان :