مانسہرہ میں شدید بحران کے باعث شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے، شہریوں نے نکل مکانی شروع کر دی

پیر جون 12:10

مانسہرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) مانسہرہ میں شدید بحران کے باعث شہری رمضان المبارک میں پانی کی بوند بوند کو ترس گئے، بہت سے شہریوں نے نکل مکانی شروع کر دی ہے۔ محلہ ڈب نمبر دو مدینہ کالونی، محلہ عثمانیہ، کامرس کلاج، نیک آباد اور دھرمیاں کی عوام صاف پینے کے پانی کو ترسنے لگی، کنویں پہلے خشک تھے اور اب بورنگ بھی خشک ہونے لگی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ممتاز سیاسی و سماجی کارکن سٹی نمبر تین کے جنرل کونسلر ملک بابو ذوالقرنین نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ محلہ جات کربلا کا منظر پیش کرنے لگے ہیں، عوام گندے پانی،، بوت کھٹا اور شہیلیہ کے گھٹا کا پانی مہنگے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ تحصیل حکومت سے لیکر وفاقی حکومت تک درخواستیں دی ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مانسہرہ شہر کی عوام پانی پانی کرنے لگ گئی، پانی نہ ہونے کی وجہ سے مانسہرہ شہر کی عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وفاقی وزیر سردار محمد یوسف کو بہت سی درخواستیں بمع اسٹیٹمنٹ دیں تھیں، ان کی جانب سے بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ سابق وفاقی وزیر سردار محمد یوسف سے لیکر مانسہرہ کی تحصیل حکومت تک تمام ناکام ہو چکی ہیں، تمام شہری سخت اذیت اور پریشانی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔

متعلقہ عنوان :