اپنی سرزمین ایران کے خلاف جنگ میں استعمال نہیں ہونے دیں گے، قطر

تیسری قوت نے ایران ، امریکا کو جنگ کی طرف لے جانے کی کوشش کی تو سنگین نتائج ہوں گے،وزیردفاع

پیر جون 12:30

دوحہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) خلیجی ریاست قطر کے وزیر دفاع نے خطے میں ایران کی بڑھتی مداخلت کو نظر انداز کرتے ہوئے تہران کا بھرپور دفاع کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق بین الاقوامی سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں قطری وزیر دفاع خالد العطیہ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ کسی محاذ آرائی کا حصہ ہرگز نہیں بنے گا۔ انہوں نے ایران اورعالمی طاقتوں میں طے پائے جوہری سمجھوتے کا دفاع کرتے ہوئے اسے برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو اس میں قطر کا کیا کردار ہوگا کیوں امریکا کا ایک بڑا فوجی اڈہ قطر میں بھی موجود ہی اس پر انہوں نے کہا کہ قطر کسی صورت میں ایران کو نشانہ بنانے میں کسی ملک کی مدد نہیں کرے گا۔

(جاری ہے)

خالد العطیہ کا کہنا تھا کہ دوحہ تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان قربت پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

ہم ایران کے ساتھ کسی محاذ آرائی کا حصہ ہرگز نہیں بنیں گے اور نہ قطر میں موجود فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں کوئی تیسری قوت ایران اور امریکا کو جنگ کی طرف لے جانے کی کوشش کرے گی تو اس کے سنگین خطرات سامنے آئیں گے۔قطری وزیر دفاع نے ایران اور اس کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی تہران کی حکمت عملی کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے سمجھوتے کے بارے میں بات کرتے ہوئے خالد العطیہ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کو ہرصورت میں برقرار رہنا چاہیے۔

متعلقہ عنوان :