یمن میں حوثی باغی جنگ میں شکست سے بچنے کے لیے یتیم بچوں کو اغواء کرنے لگے

یتیم خانوں سے اغواء 200 بچے جنگ میں ہلاک،عالمی برادری حوثیوں کے اس اقدا م کی روک تھام کرے،وزیراطلاعات

پیر جون 12:30

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو جنگ میں شدید افرادی قلت کا سامنا ہے اور اس قلت کودور کرنے اور شکست سے بچنے کے لیے یتیم بچوں کو اغواء کے بعد جنگ کا ایندھن بنانے جیسے مکروہ حربے استعمال کررہے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق حوثی ملیشیا نے اپنے زیرتسلط علاقوں بالخصوص صنعاء، عمران اور ذمار گورنریوں سے بڑی تعداد میں یتیم بچوں کو اغواء کے بعد جنگ کے لییانہیں جنگی تربیت دینا شروع کی ہے۔

وسطی یمن کی اب گورنری کے گورنر محمد الدعام نے بتایا کہ حوثی ملیشیا اس شہروں اور دیہاتوں میں یتیم بچوں کو اغواء کے بعد انہیں جنگ کا ایندھن بنانے کی سازشوں میں مصروف ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ حوثیوں کو اپنے ان جرائم کا حساب دینا ہوگا۔

(جاری ہے)

محمد ادعام نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو حوثی ملیشیا کیحوالے نہ کریں اور بچوں پر کڑی نظر رکھیں کیونکہ باغی مختلف حربوں کے ذریعے بچوں کو اغواء کے بعد جنگ میں جھونک رہے ہیں۔

اسی سیاق میں یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے یمن میں بچوں کو حوثیوں کے ہاتھوں اغواء اور انہیں جنگ کا ایندھن بنائے جانے سے بچانے میں مدد کی اپیل کی۔انہوں نے بتایا کہ یمن کے یتیم بچوں کے مراکز سے سیکڑوں بچوں کو اغواء کرکے جنگ میں جھونکا گیا جس کے باعث 200 بچے ہلاک ہوگئے۔