ہم اچھی خاصی بجلی سسٹم میں چھوڑ کر گئے تھے، آخری دنوں میں شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی نے بہت سے منصوبوں کا افتتاح کیا، لواری ٹنل کی تعمیر مکمل ہونے سے 24 گھنٹے کا سفر 12 گھنٹے کا رہ گیا ہے

مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کی احتساب عدالت میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو

پیر جون 13:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے پیر کو احتساب عدالت میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو اور ان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے کئے کے ذمہ دار ہیں، ہم اچھی خاصی بجلی سسٹم میں چھوڑ کر گئے تھے اور سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ انہوں نے کہا کہ آخری دنوں میں شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی نے بہت سے منصوبوں کا افتتاح کیا۔

39 میگا منصوبے پنجاب اور وفاق میں ہیں جن میں ہسپتال، کالج، یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ کام کسی اور حکومت نے کئے ہیں انہوں نے کہا کہ کچھی کینال کا منصوبہ تاریخی منصوبہ ہے، لواری ٹنل کا منصوبہ ہی دیکھ لیں، لواری ٹنل سردیوں میں بند ہو جاتا تھا۔

(جاری ہے)

اب اس کی تعمیر مکمل ہونے سے 24 گھنٹے کا سفر 12 گھنٹے کا رہ گیا ہے۔ پہلے لوگ لواری ٹنل بند ہونے سے محصور ہو کر رہ جاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نیب کورٹ میں نہ پھنسا ہوتا تو تمام صحافیوں کو لواری ٹنل دکھانے لے کر جاتا۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر اپنے ردعمل پر نواز شریف نے کہا کہ ایک سنگل رکنی بینچ کیسے پارلیمنٹ کے فیصلے کو معطل کر سکتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حیدر آباد ۔ کراچی موٹر وے بن چکی ہے، میری خواہش تھی کہ وزیراعظم لاہور ملتان اور سکھر موٹر وے کا افتتاح کرتے مگر بنانے والوں نے تاخیر کر دی ہے۔ میں ہوتا تو ان منصوبوں میں تاخیر نہ ہوتی۔