14 ویں قومی اسمبلی نے 5 برسوں میں 205 بلز کی منظوری دی

ایوان میں 182 حکومتی اور 23 پرائیوٹ ممبر بلز منظور کیے گئے

پیر جون 13:20

14 ویں قومی اسمبلی نے 5 برسوں میں 205 بلز کی منظوری دی
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔04 جون۔2018ء) سیاسی تنازعات کے باوجود ملک کی 14 ویں قومی اسمبلی نے بے مثال قاون سازی کا ایجنڈا جاری رکھا اور گزشتہ 5 برسوں میں 205 بلز کی منظوری دی۔فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک ( فافین) کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایوان میں 182 حکومتی اور 23 پرائیوٹ ممبر بلز منظور کیے گئے جو گزشتہ ادوار کی اسمبلی مدت کے مقابلے میں زیادہ تھے۔

خیال رہے کہ 12 ویں قومی اسمبلی نے اپنی 5 سالہ مدت میں 134 جبکہ 13 ویں اسمبلی نے 51 بلز پاس کیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 برسوں میں ایوان کے 56 سیشن کے دوران کئی 5 آئینی ترامیم سمیت کئی اہم قانون کی منظوری دی گئی، جس میں ابتدائی طور پر 2 برسوں کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام اور بعد ازاں انہیں مزید 2 سال کی منظوری، تازہ ترین مردم شماری کے نتائج کی روشنی میں قومی اسمبلی کی نستوں کی دوبارہ تقسیم، انتخابی اصلاحات اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں ((فاٹا)) کا خیبرپختونخوا سے انضمام شامل ہے۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ دیگر اہم حکومتی قانون سازی میں کرمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کے ذریعے قانونی چارہ جوئی کا معاوضہ، تنازعات کا متبادل حل کے لیے طریقہ کار،، گواہ کا تحفظ شامل ہے، اسی طرح ایوان نے جانے کا حق، موسمیاتی تبدیلی اور اداروں سے متعلق اصلاحات کے لیے بھی قانون سازی کی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ قانون سازی کے علاوہ ایوان نے خارجی امور، معیشت، اندرونی سیکورٹی، صحت، تعلیم اور دیگر معاملات پر 209 قراردادوں کو بھی منظور کیا۔

اسی طرح گزشتہ اسمبلی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ایوان نے 23 پرائیویٹ ممبر بلز کو بھی پاس کیا جبکہ ایوان زیریں میں کل 237 پرائیویٹ ممبر بلز پیش کیے گئے۔پارلیمانی جماعتوں کے درمیان متحدہ قومی موومنٹ پرائیوٹ ممبر قانون سازی کو متعارف کرانے میں سب سے زیادہ پیش پیش رہی اور اس کے قانون سازوں کے قریباً ایک تہائی ( 75) بلز کو اسپانسر کیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قانون سازوں نے 53 ، پاکستان پیپلز پارٹی نے 33 اور پاکستان تحریک انصاف کے قانون سازوں نے 26 پرائیویٹ ممبرز بلز اسپانسر کیے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس مدت کے دوران قانون سازوں کی جانب سے 13 ہزار 912 سوالات اٹھائے گئے جبکہ 533 پر توجہ دلاونوٹس اور 45 پر بحث کی گئی۔ اس کے علاوہ 16 پارلیمانی پارٹیز کی 56 خواتین اور 138 مردوں پر مشتمل 194 قانون سازوں نے ایوان میں اپنے سوال کرنے کے حق کا استعمال کیا اور خواتین قانون سازوں نے 7 ہزار 909 ( 57 فیصد ) اور مردوں نے 6 ہزار 3 ( 43 ) فیصد سوالات کیے جبکہ حکومت کی جانب سے کل 13 ہزار 912 سوالات میں سے 10 ہزار 926 ( 79 فیصد ) کا جواب دیا گیا اور 2 ہزار 977 ( 21 فیصد ) سوالات پر جواب نہیں دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ملک کی 14 ویں قومی اسمبلی نے کچھ بامعنی اصلاحات متعارف کرا کر 18 ویں آئینی ترمیم کو منظور کیا۔اسی طرح پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی ساخت کو تبدیل کرکے اس کی نمائندگی سینیٹ کو دی گئی تاکہ مالی نظم و ضبط کے معاملے میں پینل کو زیادہ مضبوط بنایا جاسکے۔