بلوچستان میں نفرت کی سیاست کے خاتمے کا وقت آچکا ہے ،میر جام کمال، منظور احمد کاکڑ، سعید احمد ہاشمی

قوم اور مذہب پرستوں نے عوامی مینڈیٹ کو ذاتی مفاد حاصل کر نے کے لئے استعمال کیا بلوچستان کے ساتھ فیڈریشن کی تمام جماعتوںکا رویہ ایک جیسا رہا ہے انہیں صرف بلوچستان کی 14سیٹیں نظر آتی ہیں جس کی وجہ سے وہ ہمیں اس قابل نہیں سمجھتے کہ ہمیں ہماری پسماندگی کے حساب سے وسائل دیں سیاسی جماعتوں میں مخلص ہو کر جدو جہد کی تاہم پارٹی قیادت نے انکا ساتھ دینے کی بجائی مخلص ورکروں کو نظر انداز کیا ،کئی سیاسی جماعتیں بااثر افراد کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہیں ،نور محمد دمڑ، طور اتما نخیل ،سردار اسرار ترین

پیر جون 13:30

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں نفرت کی سیاست کے خاتمے کا وقت آچکا ہے ،قوم اور مذہب پرستوں نے عوامی مینڈیٹ کو ذاتی مفاد حاصل کر نے کے لئے استعمال کیا ،،بلوچستان میں احتساب نیب نہیں بی اے پی خود کریگی ،آئندہ عام انتخابات میں ہر حلقے سے امیدوار سامنے لائیں گے ،یہ بات بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی صدر میر جام کمال ،جنرل سیکرٹری منظور احمد کاکڑ، بانی رہنماء سعید احمد ہاشمی ، ملک خدا بخش لانگونے نور محمد دمڑ، طور اتما نخیل ،سردار اسرار ترین کی اپنے ساتھیوں سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفیٰ ہوکر بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کر نے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بی اے پی کے مرکزی صدر میر جام کمال نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے لوگ بلوچستان کے لوگوں کی حب الوطنی سے لاعلم ہیں انہیں بلوچستان کے بارے میں محدود معلومات ہیں مگر ہمارے تقدیر کے فیصلے وہی لوگ کرتے ہیں جس کی وجہ سے آج تک ہمیں لاوارث رکھا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساتھ فیڈریشن کی تمام جاعتوںکا روئیہ ایک جیسا رہا ہے انہیں صرف بلوچستان کی 14سیٹیں نظر آتی ہیں جس کی وجہ سے وہ ہمیں اس قابل نہیں سمجھتے کہ ہمیں ہماری پسماندگی کے حساب سے وسائل دیں اگر وفاق کا یہی سلسلہ جاری رہا تو بلوچستان میں ترقی کا خواب پورا نہیں ہوگا اور بلوچستان عوامی پارٹی بلوچستان کی ترقی کے خواب کو ضرور پورا کریگی ، نور محمد دمڑ،سردار اسرار ترین ،طور اتما نخیل کی اپنے ساتھیوں سمیت بی اے پی میں شمولیت مثبت تبدیلی ہے جس کے آنے والے دونوں میں اثرات مرتب ہونگے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سیکرٹری جنرل منظور احمد کاکڑ نے کہا کہ بی اے پی ایک سوچ اور وژن کا نام ہے ہم نے غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کی طرف قدم بڑھایا ہے اب ہمارے فیصلے جاتی امرا، بلاول ہائوس یا بنی گالہ کی بجائی بلوچستان میں بیٹھ کر ہوں گے انہوں نے کہا کہ جنرل عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ بی اے پی اندھیرے میں بنی ہے اور وہ جلد ہی ختم ہوجائے گی دراصل وہ اور دیگر سیاسی جماعتیں ہماری بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں ان کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں وہ خواب میں بھی ہمیں ہی دیکھتے ہیں انہوں نے کہا 70سال بعد بلوچستان میں ایک خود مختار پارٹی بنی ہے ہمارے نااہل حکمران پی ایس ڈی پی خرچ نہیں کر پاتے اور ہر سال اربوں روپے لیپس کر دیتے ہیں جس سے صوبے کی بدنامی ہوتی ہے وفاق میں بیٹھے لوگ بلوچستان کے نام نہاد نما ئندوں کو فنڈز لیپس کر نے کے بدلے مخصوص حصہ دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں قوم پرست بیٹ پرست جبکہ مذہب پرست کاربار پرست نکلے جنہوں نے عوام کے دئیے ہوئے مینڈیٹ کا سودا کیا،پانچ سال تک ووٹ لیکر کر غائب رہنے والے آج لوگوں کی غمی خوشی میں کس منہ سے شریک ہورہے ہیں بلوچستان کے عوام کے ساتھ منافقت اور زیادتی کی گئی جسے صوبے کے عوام کبھی معاف نہیں کریں گے ،انہوںنے کہا کہ کوئی بھی وزیرعوامی فلاح کا کام کر احسان نہیں کرتا یہ عوام کے ٹیکس کے پیسے ہیں جنہیں عوام پر خرچ کرنا وزیرکی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ وفاقی سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے سے باریاں لگائی ہوئی ہیں اقتدار میں آنے والے قوم پرستوں کوپورے بلوچستان میں صرف اپنا خاندان نظر آیا صوبے میں پانچ سالہ دور میں ایک فیکٹری تک نہیں بنائی گئی، انہوںنے کہا کہ ہم اقتدار میں آکر ملک و صوبے پیچنے کی بجائی عوام کی خدمت کریں گے ،انہوں نے پارٹی میں شمو لیت کرنے والے رہنمائوں کو پارٹی میں خوش آمدید کہا ۔

(جاری ہے)

تقریب سے خطاب کر تے ہوئے بی اے پی کے بانی سعید احمد ہاشمی نے کہا کہ جس رفتار سے بی اے پی میں لوگوں نے شمولیت کی اسکی مثال بلوچستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ،ہمیں آپس میں لڑوانے والے لوگوں نے بردار اقوام میں نفر ت کے بیج بوئے لیکن ہمیں اپنی نوجوان قیادت سے امید ہے کہ وہ ایسا ماحول بنائیں گے کہ عوامی امنگوں پر پورا تر سکیں ،انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے نمائندوں کا احتساب نیب نہیں بلکہ پارٹی خود کریگی آنے والے الیکشن میں بلوچستان کے تمام 51حلقوں اور قومی اسمبلی کی تمام نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کریں گے ،اس موقع پر بی اے پی میں شمولیت کرتے والے نور محمد دمڑ، سردار اسرار ترین،طور اتمانخیل و دیگر نے کہا کہ انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں میں مخلص ہو کر جدو جہد کی تاہم پارٹی قیادت نے انکا ساتھ دینے کی بجائی مخلص ورکروں کو نظر انداز کیا ،کئی سیاسی جماعتیں بااثر افراد کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہیں ،،بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر میر جام کمال اور انکے خاندان کی بلوچستان کے لئے بے پنا ہ خدمات ہیں آج بی اے پی پورے صوبے کی آواز بن چکی ہے اور عوامی سیاست کا واحد راستہ بی اے پی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ہمیشہ کمتر سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ہمیں اپنے ہی فیصلوں کا اختیار نہیں تھا جس کی وجہ سے صوبے میں احساس محرومی بڑھا،امید ہے کہ بی اے پی ان تمام محرومیوں کا ازالہ کر کے بلوچستان کے عوام کو انکے جائز حقوق دلوائے گی ،انہوں نے عہد کیا کہ وہ پارٹی کو فعال بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے ،اس موقع پر سینیٹر نصیب اللہ بازئی ،میر اسماعیل لہڑی، میر ضیاء لانگو، میر رامین محمد حسنی ،میر اظہار حسین کھوسہ، محمد خان لہڑی سمیت دیگر بھی مو جود تھے