برطانوی امدادی اہل کار کابیوہ شامی خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کا انکشاف

تنظیم چلانے والا شخص امدادات کو جنسی خدمات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کے حوالے سے مشہورہے،رپورٹ

پیر جون 14:00

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) برطانوی انکشاف کیا ہے کہ شام میں بیوہ خواتین کو برطانویوں کی جانب سے عطیہ کردہ غذائی امداد کے حصول کے مقابل جنسی طور پر بلیک میل کیا گیا۔برطانوی اخبار کے مطابق ایک معروف اہل کار نے غریب بیواؤں سے جنسی خدمات کے حصول کے لیے ان امدادات کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔اخبار نے بتایا کہ برطانیہ میں رجسٹرڈ ایک سوسائٹی نے شام میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے ذریعے امدادات تقسیم کیں۔

اس تنظیم کو چلانے والا شخص امدادات کو جنسی خدمات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔اخبار نے انکشاف کیا کہ وہ حلب کے مغربی نواح میں انسانی امداد کے شعبے میں کام کرنے والے مذکورہ اہل کار کی جانب سے ارسال کردہ موبائل پیغامات پر مطلع ہوا جن میں اس اہل کار نے خواتین سے مطالبہ کیا کہ وہ غذائی امداد حاصل کرنے کے مقابل اسے برہنہ تصاویر بھیجیں۔

(جاری ہے)

اخبار کے مطابق بعض خواتین غذائی امداد کی مقدار پر سودے بازی کے بعد یہ مطالبہ پورا کرنے پر آمادہ ہو گئیں۔ البتہ بعض دیگر خواتین نے اس سے انکار کر دیا جس پر اس اہل کار نے ان خواتین سے بات چیت کا سلسلہ فوری طور پر ختم کر دیا اور انہیں انسانی امداد بھی حاصل نہ ہو سکی، ان میں زیادہ تر بیوہ خواتین تھیں۔اخبار کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ برطانوی فلاحی سوسائٹی کو اس شخص کی سرگرمیوں کا علم تھا یا پھر سوسائٹی کے کسی ورکر نے اس شخص کو جنسی خدمات حاصل کرنے کے واسطے استعمال کیا ہو۔

متعلقہ عنوان :