انتخابات 2018 ،ْکاغذات نامزدگی کی وصولی شروع، کئی امیدواروں نے فارم حاصل کرلیے

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 کے لیے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے گئے

پیر جون 14:10

اسلام آباد/کراچی/پشاور /لاہور /کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) انتخابات 2018 کیلئے پیر سے کاغذات نامزدگی وصول اور جمع کرانے کا عمل شروع ہوگیا اور یہ سلسلہ 8 جون تک جاری رہے گا۔ تمام صوبوں کے صوبائی الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسران کے دفاتر سے کاغذات نامزدگی فارم وصول کیے جاسکتے ہیں اور ابتدائی طور پر نامزدگی فارم حاصل کرنے میں سب سے تیزی سندھ میں دیکھی گئی۔

الیکشن کمیشن کے کراچی میں واقع صوبائی دفتر سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 کے لیے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے گئے۔۔ایم کیو ایم کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اویس شاہ نے این اے 244 اور سابق ایم پی اے پنجومل بھیل نے اقلیتی نشت پر فارم حاصل کرلیا۔

(جاری ہے)

جماعت اسلامی کے ہارون سرفراز نے این اے 241 جب کہ محمد خان اعوان نے پی ایس 96 کے لیے کاغذات نامزدگی فارم حاصل کرلیے۔

تحریک انصاف کے سیف الرحمان نے این اے 242 کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کیے۔فنکشنل لیگ کے سابق ایم پی اے لکشمن داس، پیپلز پارٹی کے رہنما رمیش کمار اور تحریک انصاف کی طرف سے ڈاکٹر پہلاج رام نے اقلیتی نشت پر فارم حاصل کیے۔کاغذات نامزدگی فارم حاصل کرنے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کھیل داس کوہستانی جبکہ رہنما پیپلز پارٹی ثریا جتوئی کے بیٹے نے اپنی والدہ کے لیے خواتین کی مخصوص نشست پر فارم حاصل کیا۔

حیدرآباد سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 227 کیلئے تحریک انصاف کے کیو حاکم اور این اے 225 کے لیے ذوالفقار ہالیپوٹو نے کاغذات نامزدگی حاصل کیے۔صوبائی حلقے 67 پر تحریک انصاف کے علی جونیجو اور پی ایس 65 پر پاک سرزمین پارٹی کے نواب راشد نے نامزدگی فارم حاصل کیے۔۔الیکشن کمشنر سندھ کے مطابق اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے بعد کاغذات نامزدگی فارم کا اجراء شروع ہوگیا ہے ،ْ سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کی ترجیحی فہرست 8 جون تک جمع کراسکتی ہیں۔

لاہور کی سیشن عدالت کے 14 ججز بطور آر اوز ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے طاہر سندھو نے این اے 130 کے لیے پہلا فارم حاصل کیا۔۔تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کیلئے اسلام آباد کے حلقہ این اے 54 سے کاعذات نامزدگی وصول کیے گئے۔۔تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد نے این اے 125 کے لیے کاغذات نامزدگی فارم حاصل کرلیا، انہوں نے میاں زاہد باٹا ایڈووکیٹ کی وساطت سے آر او آصف بشیر کی عدالت سے کاغذات نامزدگی وصول کیے۔

سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے این اے 182، 183 اور 184 کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ،ْ انہوں نے صوبائی حلقہ پی پی 276 کے لیے بھی نامزدگی فارم وصول کیے۔۔مسلم لیگ (ق) کے ڈاکٹر زین بھٹی نے این اے 80 گوجرانولہ کے لیے کاغذات نامزدگی فارم حاصل کیے ،ْ عام لوگ پارٹی کے نسیم صادق نے این اے 81 کے لیے نامزدگی فارم وصول کیا۔ این اے 53 اسلام آباد کے لیے آل پاکستان تاجرایسوسی ایشن کے صدراجمل بلوچ نے کاغزات نامزدگی وصول کیے، این اے 54 سے پی ٹی آئی گلالئی جماعت سے میمونہ خان نے کاغذات نامزدگی حاصل کیے۔

پشاور میں الیکشن کمیشن کے دفتر سے انتخابات 2018 کے لیے کاغذات نامزدگی کی وصولی کا عمل شروع ہوگیا۔۔پشاور میں پہلے امیدوار عبدالاکبر خان نے صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 75 کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے، انہوں نے پیپلز پارٹی سے مستعفی ہو کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی ہے۔صوبائی الیکشن کمشنر کے مطابق پشاور میں 20 ریٹرننگ افسران فرائض انجام دے رہے ہیں ،ْ سیشن جج انور علی خان ڈسٹرکٹ اینڈ ریٹرننگ افسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

صوبائی الیکشن کمشنر نے ہدایت کی ہے کہ امیدوار کاغذات نامزدگی 8 جون تک وصول اور جمع کرا سکتے ہیں۔۔بلوچستان کے ضلع چمن میں ریٹرنگ افسر کے دفتر سے اے این پی کے اصغر خان اچکزئی نے این اے 263 اور پی بی 23 کے لیے نامزدگی فارم حاصل کرلیے ،ْ اے این پی کے ہی زمرک اچکزئی اور امین اللہ کاکڑ نے حلقہ پی بی 21 حاصل کیے، دونوں امیدواروں کے درمیان مذکورہ حلقہ سے انتخاب لڑنے پر اختلاف رائے پایہ جاتا ہے۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے عبدالخالق اچکزئی نے صوبائی اسمبلی کی نشست پی بی 23 کے لیے کاغذات نامزدگی فارم حاصل کرلیے۔۔الیکشن کمیشن نے طے کیا کہ کاغذات نامزدگی ویسے ہی رہیں گے جیسے الیکشن ایکٹ میں طے کیے گئے تھے ،ْاس حوالے سے سپریم کورٹ کاغذاتِ نامزدگی کی تبدیلی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرچکی ہے۔۔عدالت عظمیٰ گزشتہ روز الیکشن کمیشن اور سردار ایاز صادق کی اپیلیں باضابطہ سماعت کے لیے منظور کرچکی ہے۔۔سپریم کورٹ نے اپیلوں پر سماعت کے دوران کہا تھا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے سے انتخابات تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں اور انتخابات میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔