کراچی ،ْڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹونمنٹ میں تعمیرات پر پابندی عائد

جب تک کنٹونمنٹ اور ڈی ایچ اے کی حدودکا تنازع ختم نہیں ہوتا، منصوبوں پر کام نہیں ہوگا ،ْسربراہ امیر ہانی مسلم

پیر جون 14:10

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) واٹر کمیشن نے ڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹونمنٹ کے علاقوں میں تعمیرات پر پابندی عائد کردی۔۔سندھ ہائیکورٹ میں واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں صوبے میں فراہمی ونکاسی آب کمیشن کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں ایڈیشنل سیکریٹری دفاع ،ڈی ایچ اے حکام اور دیگرسندھ ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔

واٹر کمیشن نے ٹریٹمنٹ پلانٹس کی عدم تنصیب پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایچ اے میں تعمیرات کی مکمل اجازت ہے لیکن ٹھوس منصوبہ بندی نہیں۔واٹر کمیشن نے استفسار کیا کہ ڈی ایچ اے کی کل آبادی کتنی ہی اس پر ڈائریکٹر پلاننگ نے بتایا کہ ڈی ایچ اے کی آبادی 5 لاکھ سے زیادہ ہے۔واٹر کمیشن نے کہا کہ ڈی ایچ اے کی آبادی بہت کم دکھائی گئی ہے، ڈی ایچ اے میں کاروباری اور کمرشل مراکز کتنے ہیں واٹر کمیشن کے سوال پر ڈی ایچ اے حکام کمرشل اور کاروباری مراکز کی تعداد بتانے میں ناکام رہے۔

(جاری ہے)

جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے کہا کہ کیایم سی اور واٹر بورڈ کا خود برا حال ہوچکا ہے، اگر پانی گندا ہورہا ہے تو اس کا ذمے دار کون ہی وزارت دفاع بھی اس کا ذمہ یدار ہے۔واٹر کمیشن نے ڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹونمنٹ کے علاقوں میں تعمیرات پر پابندی عائد کردی۔واٹر کمیشن نے کہا کہ جب تک کنٹونمنٹ اور ڈی ایچ اے کی حدودکا تنازع ختم نہیں ہوتا، منصوبوں پر کام نہیں ہوگا، سب سے پہلے ان کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ کیوں نصب نہیں کیے۔

واٹر کمیشن نے سوال کیاکہ کوئی بتاسکتا ہے،کتناگندا پانی سمندر میں چھوڑا جارہا ہی اس پر ڈی ایچ اے حکام نے بتایا کہ کراچی سے یومیہ 580 ملین گیلن گنداپانی سمندر میں چھوڑا جارہا ہے۔جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے کہا کہ اب ہم نے تمام اداروں کیساتھ مل کر ٹھوس اقدامات شروع کردیے، 30 جون تک 158 ملین گیلن پانی ٹریٹ کرکے سمندر میں چھوڑا جائے گا، اب کسی کو غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنے دیں گے۔