عیسیٰ خیل میں خوبرو حسینہ کی 16شادیاں

لڑکی کو بڑی عمر کے افراد میں دلچسپی، اور ان سے شادی وہ کس مقصد کیلئے کرتی؟ہوشربا تفصیلات سامنے آگئیں

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جون 14:49

عیسیٰ خیل میں خوبرو حسینہ کی 16شادیاں
عیسیٰ خیل (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 04 جون 2018ء) : تحصیل عیسیٰ خیل کے علاقہ میانہ والا کی رہائشی شہناز دختر گُل زمان ذات موچی نے اپنے سگے باپ کے ساتھ مل کر شادیوں کا کاروبار شروع کیا۔کالا باغ کے علاقہ کچھ تندر خیل کے رہائشی محبوب خان نے بتایا کہ ان کا طریقہ واردات بہت آسان ہے۔ اس کا باپ مختلف شہروں میں شادی کے خواہشمند بڑی عمر کے افراد کو ڈھونڈ کر کسی تیسرے آدمی کے ذریعے ان تک پیغام پہنچاتا ہے کہ میانہ والا کے رہائشی گُل زمان کے گھر اس کی بیٹی کا رشتہ موجود ہے، جو اس کی شادی کرنا چاہتا ہے۔

یہ پیغام سُن کر جب خواہشمند خاندان ان کے گھر رشتہ لے کر جاتا ہے تو وہ پہلی نظر میں ہی آنے والے رشتے کو پسند کر لیتا ہے اور لڑکی کو کنوارہ ظاہر کر کےپروگرام کے مطابق اڑھائی تین لاکھ روپے اور 5 تولہ زیورات دولہے سے لکھوا لیتا ہے اور چٹ منگنی پٹ بیاہ کر کے بیٹی کو رخصت کر دیتا ہے۔

(جاری ہے)

لیکن کچھ ماہ بعد ہی شہناز بی بی اپنے میاں سے ناراض ہو کر اپنے سامان سمیت باپ کے گھر واپس آجاتی ہے۔

اور پھر دوسری جگہ شادی کا پروگرام بنا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اب تک یہ حسینہ شادی کے نام پر مختلفف شہروں کے 16 افراد کو لوٹ چکی ہے۔ جن میں سے ونجاری گلاخیل کا رہائشی غلام محی الدین ، ترگ کا رہائشی امیر محمد عرف کلی استادکمہار، سرکیہ عیسیٰ خیل کا رہائشی زبر نواز ، سلطان خیل کا رہائشی نور محمد مراثی پکوڑے والا، نور پور تھل خوشاب کا رہائشی لیاقت علی اور کچھ تندر خیل کالا باغ رہائشی محبوب خان اس شہناز بی بی نامی ڈاکو حسینہ کے متاثرین میں شامل ہیں۔

محبوب خان نے بتایا کہ ان لوگوں نے ایک گینگ بنا رکھا ہے جس میں انہوں نے میانوالی شدہر کا باقاعدہ ایک وکیل بھی رکھا ہوا ہے جس ان کے کیس لڑتا ہے ۔ محبوب خان نے مزید بتایا کہ جب میری شہناز بی بی سے شادی ہوئی اور شک پڑنے پر میں نے اس کا الٹرا ساؤنڈ کروایا تو وہ شادی سے دو ماہ پہلے کی حاملہ تھی۔ اس نے پریس کانفرنس میں الٹراساؤنڈ رپورٹس اور مختلف لوگوں کے شہناز کے ساتھ نکاح نام دکھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں اس قسم کے فراڈ مذہب اور قانون کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہیں اور یہ لوگ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوئے ہیں ، اس نے چیف جسٹس آف پاکستان ، ڈی آئی جی پولیس پنجاب اور ڈی پی او میانوالی سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر منصفانہ تفتیش کروائی جائے اور مجھ سمیت تمام متاثرین کو نہ صرف انصاف دلوایا جائے بلکہ اس گناہ کو مزید پھیلنے سے بھی روکا جائے۔