پیپلزپارٹی کے باغی رہنمااورعزیرجان بلوچ کے قریبی ساتھی حبیب جان بلوچ نجی ایئر لائن کے ذریعے لندن سے کراچی پہنچ گئے

جب تک زرداری صاحب ہیں پیپلزپارٹی میں جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، اگر بلاول بغاوت کریں تو ہم لیاری والے ضرور ساتھ دیں گے، حبیب جان لیاری سے انتخابات میں حصہ لینے کیلئے کراچی آیا ہوں، میں اپنے خلاف قائم مقدمات کا سامنا کروں گا،بابا رحمتے کے آنے کے بعد عدالتوں پر اعتماد میں اضافہ ہواہے، کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات چیت

پیر جون 14:50

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے باغی رہنما حبیب جان بلوچ نے کہاہے کہ جب تک زرداری صاحب ہیں پیپلزپارٹی میں جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، اگر بلاول بغاوت کریں تو ہم لیاری والے ضرور ساتھ دیں گے،،لیاری سے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے کراچی آیا ہوں، میں اپنے خلاف قائم مقدمات کا سامنا کروں گا۔پیپلزپارٹی کے باغی رہنمااورعزیرجان بلوچ کے قریبی ساتھی حبیب جان بلوچ پیرکی صبح نجی ایئر لائن کے ذریعے لندن سے کراچی پہنچے، ایف آئی اے حکام نے ایک گھنٹے تک تفتیش کی اور حبیب جان بلوچ کو کلیئرنس ملنے کے بعد باہر آنے کی اجازت دی گئی۔

حبیب جان بلوچ نے ائیرپورٹ پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی برطانوی شہریت ترک کر کے پاکستان آئے ہیں اور ان کی آمد کا مقصد پارلیمنٹ میں جانا نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں میں یکجہتی قائم کرنا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ جب تک آصف علی زرداری ہیں وہ پیپلز پارٹی میں جانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے، پیپلز پارٹی اب بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو والی جماعت نہیں رہی، اگر بلاول بغاوت کریں تو ہم لیاری والے ضرور ساتھ دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ غنوی بھٹو، فہمیدہ مرزا،، ذوالفقار مرزا،، مصطفی کمال اور تحریک انصاف کے لوگوں سے ملاقات کروں گا۔ہم سب مل کر ملک اور لیاری کو سنبھالیں گے۔چاہتے ہیں ایسا اتحاد بنے جنہوں نے کراچی کو لوٹا وہ دوبارہ نہ آئیں۔پیپلزپارٹی کو کہوں گا مجھ سے رابطہ نہ کریں،،کراچی کو نقصان پہنچانے والی پارٹی سے ہاتھ نہیں ملا سکتا۔انہوں نے کہاکہ مصطفی کمال ہماری دعائوں کا نتیجہ ہے، پاکستان کے معاشی حب کو پروموٹ کریں گے، 70فیصد ریونیو دینے والے شہر کو 210فیصد ریونیو دینے تک لے جائیں گے۔

حبیب جان نے عزیر بلوچ کے حوالے سے کہا کہ عزیر بلوچ کا کیس میں نہیں لڑوں گا تو کون لڑے گا، عزیربلوچ میرا دوست نہیں، میرا بھائی ہے۔ میں نے انہیں سردار مانا ہے، میری اپیل ہے کہ عزیر بلوچ کی ری ٹرائل اپیل کو مانا جائے،انہیں دوبارہ سنا جائے، اگر وہ قصور وار ہو تو سزا دی جائے۔ حبیب جان بلوچ نے کہا کہ 5سال قبل میں ملک چھوڑکر چلا گیا تھا کیونکہ مجھ کو عدالت پر بھروسہ نہیں تھا آج عدالتیں اچھا کام کر رہی ہیں،عدالتوں پر اعتبار ہے ، اس لیے واپس آیا ہوں، میں اپنے خلاف قائم مقدمات کا سامنا کروں گا۔

بابا رحمتے کے آنے کے بعد عدالتوں پر اعتماد میں اضافہ ہواہے۔انھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے مجھ پر جھوٹے مقدمات بنائے ان کاانصاف کیا جائے،ظفربلوچ لیاری کو بدلناچاہتا تھا جبکہ جتنے کام عزیربلوچ نے کرائے ان کا اندازہ کرلیں، لیاری میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی ہے۔واضح رہے کہ حبیب جان بلوچ عزیز بلوچ کے قریبی ساتھی تھے جن کا نام ای سی ایل میں شامل ہے اور وہ پانچ سال قبل پاکستان سے فرار ہوگئے تھے،ذرائع کے مطابق حبیب جان بلوچ کراچی آپریشن کے دوران لیاری سے فرار ہوگئے تھے جن پر چوہدری اسلم پر حملے سمیت انتالیس مقدمات ہیں جب کہ وہ انسپکٹر فواد اور ارشد پپو قتل کیس میں بھی مطلوب ہیں۔