انتخابات کسی صورت تاخیر کا شکار نہیں ہوں گے

پارلیمنٹ با اختیار ہے اس نے قانون سازی کر دی ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں-چیف جسٹس

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر جون 14:58

انتخابات کسی صورت تاخیر کا شکار نہیں ہوں گے
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔04 جون۔2018ء) چیف جسٹس پاکستان مسٹرجسٹس ثاقب نثارنے کہا ہے کہ انتخابات کسی صورت تاخیر کا شکار نہیں ہوں گے جب کہ اس حوالے سے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات عمل درآمد کیس کی سماعت کی، اس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ انتخابات کسی صورت تاخیر کا شکار نہیں ہوں گے، انتخابات قریب ہیں جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا،،الیکشن کمیشن تاخیر کو بھول جائے تاہم الیکشن کمیشن خود بے بس ہو جائے تو الگ بات ہے۔

عدالت نے موجودہ اور سابقہ انتخابی ضابطہ اخلاق کا مواد طلب کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو کل شام تک مواد پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی سے متعلق اپیلیں بھی بدھ کو سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔

(جاری ہے)

الیکشن کمیشن کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر ضابطہ اخلاق بنایا۔

اس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس ضابطہ اخلاق کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، سپریم کورٹ انتخابی اصلاحات پر 2012 میں فیصلہ دے چکی ہے اور اس فیصلے میں الیکشن کمیشن کے اختیارات کا بھی تعین کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انتخابات 2 یا 3 ماہ کے لیے ملتوی کرنے والی بات ذہن سے نکال دیں، انتخابات وقت پر ہوں گے۔۔الیکشن کمیشن حکام نے ورکر پارٹی کیس کی سماعت کے دوران عدالت عالیہ کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی اور سیاسی جماعتوں کی باہمی رضا مندی سے ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا، جیسا کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کو شفاف اور غیر جانب دار انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی تھی۔

اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن خود کو با اختیار سمجھتا تو کاغذات نامزدگی کا تنازع ہی کھڑا نہ ہوتا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اب کیا کیا جا سکتا ہے، نئے کاغذات نامزدگی کی وجہ سے بہت سے امیدوار معلومات اکٹھی ہی نہیں کر سکے۔دوران سماعت الیکشن کمیشن حکام نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی منظوری کے بعد دوبارہ ضابطہ اخلاق پر نظر ثانی کی گئی اور انتخابات 2018 کے لیے نیا ضابطہ اخلاق تیار کیا۔

اس پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ درست نہیں ضابطہ اخلاق 2017 میں ہی جاری ہوا، کاغذات نامزدگی کا معاملہ عدالت کے سامنے ہیں۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ اب اگر پرانے کاغذات نامزدگی بحال کیے جاتے ہیں تو امیدواروں کو بہانہ مل جائے گا کہ ہمارے پاس معلومات نہیں ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ انتخابات تاخیر کا شکار نہ ہوں۔۔عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ عوامی ووٹوں سے بننے والی پارلیمنٹ با اختیار ہے اس نے قانون سازی کر دی ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں، اب قانون سازی ہو چکی ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 6 جون تک کے لیے ملتوی کر دی۔