نوازشریف سےفاٹا یوتھ جرگہ کی ملاقات،فاٹا انضمام پرشکریہ ادا کیا

فاٹاکوقومی دھارےمیں لانا ہماری ترجیحات میں شامل تھا،فاٹا کےنوجوان اب آگےآئیں اورملک کی تعمیروترقی میں ملکراپنا کردارادا کریں۔قائد ن لیگ اورسابق وزیراعظم نوازشریف کی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر جون 15:04

نوازشریف سےفاٹا یوتھ جرگہ کی ملاقات،فاٹا انضمام پرشکریہ ادا کیا
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔04 جون 2018ء) : مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف سے فاٹا یوتھ جرگہ کے وفد نے ملاقات کی، جس میں فاٹا کے خیبرپختونخواہ میں انضمام اور آئندہ فاٹا کی ترقی کے منصوبوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے فاٹا یوتھ جرگہ کے وفد سے ملاقات میں کہا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانا ہماری ترجیحات میں شامل تھا۔

فاٹا کے نوجوان اب آگےآئیں اورملک کی تعمیروترقی میں ملکراپنا کردارادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت فاٹا اور وہاں کے عوام کو ترقی دینا ہے۔۔فاٹا یوتھ جرگہ کے ارکان نے فاٹا کے کےپی میں انضمام پرنوازشریف کا شکریہ ادا کیا۔ نوازشریف نے کہا کہ فاٹا کے نوجوانوں نے اپنے حقوق کی آوازبلند کی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

(جاری ہے)

اس سے قبل سابق وزیراعظم نوازشریف آج اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کر رہے تھے، اس موقع پر ان سے ایک صحافی نے سوال کیا کل سے بجلی بہت جا رہی ہے؟جس پر مریم نواز نے جواب میں سوال کیا کہ پہلے بجلی کیوں نہیں جاتی تھی؟نوازشریف نے کہا کہ سب کچھ ٹھیک چھوڑ کر گئے، ہم اضافی بجلی چھوڑ کر گئے، ہم اپنے دور کے ذمہ دار ہیں بہت احسن طریقے سے کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ آخری دنوں میں شہباز شریف اور شاہد خاقان نے بہت سارے منصوبوں کے افتتاح کیے، میں صرف یہ کہتا ہوں جب تک ہماری حکومت تھی توسب ٹھیک تھا،وفاق اور پنجاب میں 39میگا منصوبے شروع کیے گئے، یونیورسٹیاں اور ہسپتال الگ ہیں جو بنائے گئے۔۔نوازشریف نے سوال کیا کہ کیا یہ کام کسی ماضی کی حکومت نے کئے؟ کیا کسی نے موٹروے بنائی؟ کون تھا جو ملک کو اندھیروں میں ڈبو گیا، کون تھاجو روشنیاں واپس لایا؟انہوں نے کہا کہ خواہش تھی کہ وزیراعظم لاہور،، ملتان اور سکھر موٹر وے کا افتتاح کرتے مگر بنانے والوں نے تاخیر کر دی، یہ منصوبے مئی 2018ءمیں مکمل ہونے تھے، میں ہوتا تو شاید تاخیر نہ ہوتی۔

سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ حیدرآباد کراچی موٹروے بن چکی ہے، کچھی کینال کا تاریخی منصوبہ مکمل کیا، لواری ٹنل دیکھ لیں، نیب کورٹ میں پھنسے ہیں ورنہ صحافیوں کو سیرکراتے،چار گھنٹے سفر کم ہوا ہے، لواری ٹنل پہلے سال میں 6ماہ بند رہتی تھی، اب سارا سال کھلی رہتی ہے۔۔نوازشریف سے لوڈشیڈنگ سے متعلق سوال کیا گیا توانہوں نے لوڈشیڈنگ کی ذمہ داری لینے کے بجائے اپنے ترقیاتی منصوبے گنوا دیئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے کیے کے ذمہ دارہیں، ہم تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک چھوڑ کرگئے تھے۔دوسری جانب احتساب عدالت میں مسلم لیگ( ن) کے قائد نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت جاری ہے۔ اسلام آباد میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکررہے ہیں۔سابق وزیراعظم میاں نوازشریف احتساب عدالت میں موجود ہیں جبکہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءپرخواجہ حارث کی جرح تیسرے روز بھی جاری ہے۔

واجد ضیاءنے سماعت کے آغازپرعدالت کوبتایا کہ طارق شفیع نے بتایا محمد حسین کے ورثا انہیں لاہورملنے آئے تھے، طارق شفیع سے محمدحسین کے بیٹے شہزاد حسین کا پتہ پوچھا تھا۔استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ طارق شفیع نے محمد شہزاد کا رابطہ نمبر نہیں دیا، جے آئی ٹی نے پتہ لگانے کی کوشش کی لیکن شہزاد سے رابطہ نہ ہوسکا، طارق شفیع سے محمد شہزاد سے متعلق سوال جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ ہے۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ 1978کے شئیرزسیل معاہدے کے مطابق طارق شفیع، محمدحسین شرکت دار تھے، معاہدے پرعملدرآمد سے پہلے محمد حسین فوت ہوچکے تھے۔واجد ضیاءنے بتایا کہ معاہدے کے ساتھ خط پرمحمد حسین کے قانونی ورثا کے دستخط تھے، طارق شفیع نے جے آئی ٹی کو بتایا محمد حسین کے قانونی ورثا زندہ ہیں۔استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ جوبات میں نے کی وہ طارق شفیع کے جے آئی ٹی میں بیان سے ظاہرنہیں، جے آئی ٹی نے شہزاد حسین کا پتہ ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن نہیں ملا۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ جے آئی ٹی نے 1980 کے معاہدے میں عبداللہ اہلی کو شامل تفتیش نہیں کیا، ہمارے نوٹس میں آیا 1980 کے معاہدے کا گواہ عبدالوہاب ابراہیم تھا۔واجد ضیاءنے بتایا کہ معاہدے اورمتن کی تصدیق کے لیے گواہ عبدالوہاب کوشامل تفتیش نہیں کیا، 1980 کے معاہدے کے دوسرے گواہ لاہور سے محمد اکرم تھے۔انہوں نے کہا کہ محمد اکرم کوڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے، محمداکرم کے پتے سے متعلق طارق شفیع سے کوئی سوال نہیں کیا، جے آئی ٹی میں پیش کسی بھی شخص سے محمد اکرم سے متعلق سوال نہیں کیا۔

جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ 1980 کے معاہدے میں دیے گئے محمد اکرم کے پتے پرسمن بھی نہیں بھیجا، محمداکرم کو ڈھونڈنے کی کوشش کوجے آئی ٹی رپورٹ میں درج نہیں کیا۔واجد ضیاءنے کہا کہ 1980 کے معاہدے پرپاکستان کے یواےای میں قونصل خانے کی تصدیق تھی، پاکستانی قونصل خانے میں منور حسین کمال نے تصدیق کی تھی۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے منورحسین قونصل اتاشی کوشامل تفتیش نہیں کیا، یہ معاہدہ جعلی تھا، خواجہ حارث نے کہا کہ اگر اس معاہدے کوجعلی نہ کہتے تو یہ سوال ہی نہ پوچھتے۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ سوال میں پوچھ ہی اس لیے رہا ہوں آپ نے معاہدے کوجعلی کہا، یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہوں آپ کا جواب مستند ہے یا نہیں۔جے آئی ٹی سربراہ نے جواب دیا کہ معاہدے کی تصدیق کرنے والے کی تصدیق کے لیے قونصل خانے کا دورہ نہیں کیا۔جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءپر جرح مکمل ہونے پرنیب کے تفتیشی افسرکا بیان قلمبند کیا جائے گا۔