متحدہ عرب امارات: جنسی ہراسگی پرپاکستانی ڈرائیور عدالت میں

ملزم نے تیرہ سالہ لڑکے اور اُس کی آٹھ سالہ بہن سے جنسی چھیڑ چھاڑ کی

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر جون 16:00

متحدہ عرب امارات: جنسی ہراسگی پرپاکستانی ڈرائیور عدالت میں
دُوبئی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 4 جُون 2018ء) دو کم سن بہن بھائیو ں کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بنانے والے 39سالہ پاکستانی ڈرائیور کا مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ سرکاری استغاثہ کے مطابق ملزم نے دوبئی کے ایک شاپنگ سنٹر میں نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے دو کم سن بہن بھائی کے جسموں کومتعدد بار اُس وقت چھوا جب وہ وہ اپنے والد سے دُور تھے۔ ملزم نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب نادانستہ طور پر ہوا۔

یہ واقعہ 14 اپریل 2018ء کو پیش آیا تھا جس کی رپورٹ بُر دوبئی پولیس سٹیشن میں درج کرائی گئی۔ ملزم کی جنسی ہراسگی کا نشانہ بننے والے نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے 13 سالہ لڑکے نے بتایا کہ وہ رات آٹھ بجے کے قریب ایک شاپنگ سنٹر کی ایک دُکان میں موبائل فون چیک کر رہا تھا جب ملزم اُس کے عقب میں آکر اتنا قریب کھڑا ہو گیا کہ اُس کا جسم اُس سے چھُونے لگ گیا۔

(جاری ہے)

’’اُس نے دو بار ایسا کیا‘ جب پہلی بار اُس نے ایسا کیا تو میں نے مُڑ کر اُسے پوچھا کہ اُسے کیا مسئلہ ہے‘ تو وہ مجھ سے دُور چلا گیا۔ مگر وہ تھوڑی دیر کے بعدپھر واپس آیا اور اُس نے بار بار پہلے والی حرکت دُہرائی۔ میں نے اُسے کہا کہ اگر وہ اپنی حرکت سے باز نہ آیا تو میں سیکیورٹی کو بُلوا لوں گا۔ تبھی میں نے اپنے والد کو بُلا لیا۔‘‘جبکہ لڑکے کی آٹھ سالہ چھوٹی بہن نے کہا کہ ملزم نے تقریباً دس بار اُس کے جسم کو چھوا۔

’’پھر میں نے دیکھا کہ وہ میرے بھائی کے پیچھے جا کراُس کے جسم سے جُڑ کر کھڑا ہو گیا۔ پھر میں نے اپنے بھائی کو اُسے کہتے سُنا کہ وہ پولیس کو بُلا لے گا۔‘‘ متاثرہ بچوں کے باپ نے جو کہ ایک 64 سالہ آرکیٹیکٹ ہے‘ نے بتایا کہ جب میں نے بچوں سے اس آدمی کی مذموم حرکتوں کے بارے میں سُنا تو سیکیورٹی گارڈز سے درخواست کی کہ وہ سیکیورٹی کیمرہ کی ریکارڈنگ چیک کریں۔

’’تب مجھے گاڈرز نے بتایا کہ میرے بچوں کا کہنا درست تھا۔ پھر میں نے ملزم سے اس بات پر جھگڑا شروع کیا تووہ میرے ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا کہ اُسے معاف کر دوں۔ یہاں تک کہ اُس نے میرے پیر پکڑ کر معافی کی بھیک مانگنی شروع کر دی۔ مگر میں نے پولیس کو بُلوا کر اُسے گرفتار کروا دیا۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ اُسے شام سوا نو بجے کے قریب جنسی ہراسگی کی اطلاع مِلی تو وہ شاپنگ سنٹر گیا اور کلوز سرکٹ کیمرہ کی ریکارڈنگ دیکھی جس میں ملزم آٹھ سالہ بچی کے جسم کو چھونے سے پہلے مشکوک انداز میں دائیں بائیں دیکھ رہا تھا۔

ملزم نے مذکورہ پولیس اہلکار کے سامنے الزامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے کم سن لڑکے کو جنسی ہراسگی کے ارادے کے تحت نہیں چھوا بلکہ یہ سب لاشعوری طور پر ہوا۔ پھر اُس نے اپنے جُرم کا اقرار کر لیا اور معافی کی التجا کرتے کہنے لگا کہ بے شک مجھے مارو پیٹو مگر اس معاملے سے میری جان چھُڑا دو۔