حکومت کی مدت پوری ہونے پر چیئرمین پرائس کنٹرول کمیٹی کا عہدہ بھی تحلیل ، گراں فروشوں کو کھلی چھوٹ مل گئی

پھلوں اور سبزیوں کی مہنگے داموں فروخت کا سلسلہ جاری ،سرکاری نرخ نامے کے برعکس 50 روپے سے بھی زائد وصول کئے

پیر جون 16:30

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) پنجاب حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کے ساتھ چیئرمین پرائس کنٹرول کمیٹی کا عہدہ بھی تحلیل ہو گیا جس سے گراں فروشوں کو کھلی چھوٹ مل گئی ۔صوبائی دارلحکومت لاہور میں پرچون سطح پر پھلوں اور سبزیوں کی مہنگے داموں فروخت کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا ،دکانداروںنے سرکاری نرخ نامے کے برعکس سبزیوں خصوصاً پھلوں پر50 روپے سے بھی زائد وصول کئے ۔

مارکیٹ سروے کے مطابق ایک کلولیموں دیسی کی سرکا ری قیمت 113 روپے مقرر تھی تاہم دکانداروں نے اسے پس پشت ڈالتے ہوئے 150روپے فی کلو تک فروخت کئے ۔پیاز21روپے کی بجائی28سے 30روپے، ٹماٹر16روپے کی بجائی 25روپے،لہسن دیسی69روپے کی بجائی110روپے،لہسن چائنہ 96روپے کی بجائی130 روپے، ادرک تھائی لینڈ 116روپے کی بجائی165روپے، ادرک چائنہ 156روپے کی بجائی220 روپے، آلو نیاکچا چھلکا کے سرکاری نرخ22روپے مقرر تھے تاہم اسے 25سے 27روپے تک فروخت کیاجاتا رہا۔

(جاری ہے)

بینگن 25روپے کی بجائی30روپے،کھیرا دیسی 25روپے کی بجائی32روپے،کھیرا فارمی 20روپے کی بجائے 25روپے،پالک16روپے کی بجائے 25روپے، ٹینڈے دیسی 51کی بجائے 57روپے، ،پھلیاں58روپے کی بجائی80روپے، پھول گوبھی 53روپے کی بجائے ۶( روپے،گھیاکدو 20کی بجائی27روپے، سبز مرچ 42روپے کی بجائی 65سے 70روپے،شملہ مرچ 40روپے کی بجائی45سے 50روپے، بھنڈی33روپے کی بجائی49روپے،مٹر116روپے کی بجائی165روپے میں فروخت کئے گئے ۔

پھلوں میں ایک کلو سیب کالا کولو186روپے کی بجائی260روپے،سیب سفید 100روپے کی بجائی150روپے،کیلا اول درجہ111روپے کی بجائی170روپے،ایک کلو خوبانی سفید 166روپے کی بجائے 200 روپے،آڑو79روپے کی بجائی150روپے،کھجور ایرانی کھلی172روپے کی بجائے 240روپے،کھجور اصیل کھلی 146روپے کی بجائی220روپے،گرما 64روپے فی کلو کی بجائے 74روپے،آم سندھڑی دوم 116روپے کی بجائے 150روپے،فالسہ 136روپے کی بجائی150روپے، آلو بخارا 206روپے کی بجائی330روپے اورایک کلو انگور 136روپے کی بجائے 200روپے تک فروخت کئے گئے ۔

ذرائع کے مطابق 31مئی کو پنجاب حکومت کی مدت پوری ہونے کے ساتھ ہی چیئرمین پرائس کنٹرول کمیٹی کا عہدہ بھی تحلیل ہو گیا ہے ۔ اس عہدے پر میاں عثمان فرائض سر انجام دے رہے تھے اور ان کی سربراہی میں رمضان بازاروں اور خصوصاً اوپن مارکیٹوں میں اچانک دوروں سے صارفین کو ریلیف مل رہا تھا ۔ میاںعثمان کی جانب سے رمضان المبارک میں صارفین سے زائد وصول کرنے والے دکانداروں سے اضافی رقم فوری واپس کرانے کی مہم شروع کی تھی جسے بیحد سراہا گیا ۔