وفاقی دارالحکومت میں کاغذات نامزدگی کے حصول اور وصولیوں کے ساتھ انتخابی مہم زور پکڑنے لگی

پیر جون 16:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کاغذات نامزدگی کے حصول اوروصولیوں کے ساتھ انتخابی مہم زور پکڑنے لگی، سیاسی جماعتوں سے ٹکٹ پانے اور نہ پانے والوں میں اختلافات کے ساتھ ساتھ سیاسی جوڑ توڑ اور سیاسی جماعتوں کی افطار پارٹیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ اسلا م آباد میں قومی اسمبلی کے تین حلقوں کے لئے متعدد امیدواروں نے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے جن میں سیاسی جماعتوں کے نامزد امیدواروں کے علاوہ آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں اور انتخابات 2018ء میں حصہ لینے کے لئے پر عزم دکھائی دے رہے ہیں۔

پیر کو ریٹرننگ افسران کی طرف کاغذات نامزدگی جاری کرنے کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے امیدواروں نے کاغذات حاصل کئے۔

(جاری ہے)

پیر کو جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی حاصل کئے ہیں ان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے حاجی محمد انور کھوکھر نے این اے 52کے لئے، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اسد عمر نے این اے 54کے لئے، اسی طرح پاکستان تحریک انصاف گلا لئی کی طرف سے میمونہ خان نے پارٹی چیئر پرسن عائشہ گلالئی کے لئے این اے 54 کے کاغذات نامزدگی حاصل کئے جبکہ جماعت اسلامی کے نمائندوں نے میاں محمد اسلم کے لئے این اے 54 کے لئے کاغذات حاصل کئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے راجہ عمران اشرف نے این اے 54کے لئے جبکہ جسٹس اینڈ ڈیموکریٹس پارٹی سے نوشین کھرل ایڈووکیٹ نے این اے 54کے لئے کاغذات نامزدگی حاصل کئے۔ ریٹرننگ آفیسر سے کاغذات وصول کرنے والوں میں این اے 54سے عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما عمار رشید ، آزاد امیدوار اجمل بلوچ بھی شامل ہیں۔ کاغذات نامزدگی کے حصول کے لئے ملک بھر سے امیدوار بھی ریٹرننگ افسرا ن کے دفاتر میں کاغذات وصول کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ انتخابی مہم کے لئے بھی عوامی رابطوں کا آغاز ہو گیا جبکہ پارٹی کے ناراض کارکنان کو منانے اور باہمی اختلافات کو دور کرنے کے لئے بھی سیاسی جوڑ توڑ کاعمل شروع ہو چکا ہے۔