پاکستان پربات آئی برداشت نہیں کریں گے،میجرجنرل آصف غفور

برداشت پاکستان کیلئے کررہے ہیں،اور کرتے رہیں گے،الیکشن کا سال ہے،سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے مقابلے میں ہیں، فوج کیخلاف تمام الزامات غلط ثابت ہوتے جارہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر جون 17:21

پاکستان پربات آئی برداشت نہیں کریں گے،میجرجنرل آصف غفور
روالپنڈی(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔04 جون 2018ء) : پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ جس دن پاکستان پربات آئی برداشت نہیں کریں گے،برداشت پاکستان کیلئے کررہے ہیں،اور کرتے رہیں گے،،الیکشن کا سال ہے،سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے مقابلے میں ہیں، فوج کیخلاف تمام الزامات غلط ثابت ہوتے جارہے ہیں۔انہوں نے آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 13سالوں میں 2ہزار سے زائد بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

پچھلے ہفتے دونوں جانب سے ڈی جی ایم اوز کی بات ہوئی کہ سیز فائرمعاہدے کی پاسداری پراتفاق کیا گیا۔لیکن اس کے باجود بھارت کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی جاری ہے۔اس بات سے کل رات تک ایل اوسی کی خلاف ورزی جاری رہی۔جبکہ بھارتی میڈیا نے پروپیگنڈا بھی کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے سیز فائر معاہدے کی پاسداری کی ہے۔اب بھی جب ان کا فائر ایل اوسی پر ہوتا ہے توہم برداشت کرتے ہیں لیکن جب سویلین پرہوتا ہے توہم بھرپور جواب دیتے ہیں۔

اگر ہمارا مقصد سیزفائر معاہدے کی پاسداری کرنا ہے توہم جواب نہیں دیں گے لیکن جب دوسری گولی آئیگی توہم جواب دیں گے۔ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔سارک ممالک کے کچھ صحافی آئے تھے ۔ان میں چار بھارتی صحافی بھی تھے۔میری ان سے بات چیت بھی ہوئی۔ہم نے ان کو شمالی وزیرستان کا دورہ بھی کروایا کہ وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ کس طرح ہم نے امن قائم کیا ہے۔

ان صحافیوں نے آرمی چیف سے بھی ملاقات کی۔ان میں ایک صحافی نے بتایا کہ جب بھی پاک انڈیا تعلقات قائم ہونا شروع ہوتے ہیں توخراب ہوجاتے ہیں۔میں نے ان سے کہاکہ پاکستان ان سے ثبوت مانگ رہا ہے۔جبکہ ہمارے پا س توکلبھوشن یادیو کی شکل میں ثبوت بھی موجود ہے لیکن بھارت اس کو بھی نہیں مان رہا۔جغرافیائی لحاظ سے پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں۔

چاہتے ہیں افغانستان سے امریکی فورسز کا پرامن خلاء ہو۔پاک افغان بارڈر پرباڑ لگانے کے دوران 70سے زائد کراس بارڈرفائرنگ کے واقعات ہوئے ہیں۔باڑ پاکستان ہی افغانستان کے بھی حق میں ہے۔۔افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں۔چاہتے ہیں کہ عالمی فورسز افغانستان کو موجودہ حالات میں چھوڑ کرنہ جائیں۔انہوں نے کہا کی افغان مہاجرین کا خلاء چاہتے ہیں۔

افغان مہاجرین کی واپسی کے بعد دہشتگردی کا مقابلہ آسان ہوگا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان سکیورٹی فورسز نے دودہائیوں میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ہم نے سیکھا ہے کہ سب سے پہلے پاکستان ہے۔ہروہ کام کریں گے جوپاکستان کے مفاد میں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ایران کے ساتھ بارڈر پر حالات بہتر ہوئے ہیں۔۔بلوچستان میں سلمان بدینی کے نیٹ ورک کے خاتمے سے بلوچستان میں کافی امن قائم ہوا۔

انہوں نے کہاکہ فاٹا کا خیبرپی کے میں انضمام ہوگیا ہے۔۔فاٹا کے کچھ بزرگ فاٹا انضمام کے حق میں نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ جو بھی پاکستان کی خدمت کرتا ہے یہ وردی اس کی ہے۔یہ وردی فوج،، پولیس ، سی ٹی ڈی اور تمام فورسز کی وردی ہے۔چیک پوسٹ پرکھڑا سپاہی پاکستانی ہوتا ہے۔۔سوشل میڈیا پرجھوٹے نعروں سے کچھ نہیں ہوتا۔وانا میں کسی بچی کی ہلاکت نہیں ہوئی۔

وانا میں علی وزیرنے جاکرفوج کیخلاف جھوٹے نعرے لگوائے۔ہم پرحقانی نیٹ ورک کیخلاف آپریشن نہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ہم پر بہت سے الزامات لگے سب جھوٹے ثابت ہوئے۔ہرکسی کوجواب دینے کے پابند نہیں ہیں۔مسائل کے حل کیلئے منظور پشتین اور محسن داوڑ کو یقین دلایا تھا۔۔آرمی چیف نے ہدایت کی تھی کہ منظورپشتین کیخلاف طاقت نہ استعمال کی جائے۔

آرمی چیف نے پنجاب حکام کوپی ٹی ایم کارکنان کی گرفتاری سے بھی روکا۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ 10سالوں میں عوام کی فوج کیلئے محبت میں اضافہ ہوا ہے۔ہروہ کام کریں گے جوپاکستان کے مفاد میں ہوگا۔میڈیا بہت اچھا کام کررہا ہے۔ہماری طرف سے کسی میڈیا ہاؤس کو کوئی ہدایت جاری نہیں کی جاتی۔۔سوشل میڈیا پرفوج کیخلاف غلط پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔۔سوشل میڈیا پرکیا چل رہا ہے سب جانتے ہیں۔

ریاست مخالف مواد پرمتعلقہ اتھارٹی کوآگاہ کیا جاتا ہے۔جن لوگوں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنائے ہیں یہ ایک دوسرے کیخلاف ہی کھیلتے رہتے ہیں۔گزشتہ چار مہینوں جنوری سے مئی تک ریاست مخالف اور فوج کیخلاف اکاؤنٹس میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے ایک سوال خلائی مخلوق سے متعلق جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 2018ء تبدیلی کا سال ہے۔۔الیکشن کا سال ہے۔

سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے مقابلے میں ہیں۔سیاستدانوں کو ایک دوسرے کی قیمت پرالیکشن لڑنا ہے۔سیاسی الزامات وقت پرچھوڑتے ہیں غلط ثابت ہوں گے۔۔فوج کوسیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ فوج کیخلاف تمام الزامات غلط ثابت ہوتے جارہے ہیں۔پہلے الزام لگا کہ سینیٹ الیکشن نہیں ہوں گے،،سینیٹ الیکشن بھی ہوگئے الیکشن نہیں ہوں گے،اب وہ بھی ہورہے ہیں۔

․حکومت ٹائم پورا نہیں کرے گی۔سب الزامات غلط ثابت ہوتے جارہے ہیں۔ہم چاہتے الیکشن ہوں اور خوش ہیں کہ حکومت نے اپنی مدت پوری کی۔انہوں نے کہا کہ اسد درانی کی شخصیت کا سب کوعلم ہے۔اسد درانی تھری سٹار ریٹائرڈ ہوئے۔ریٹائرہوئے 25سال ہوگئے ہیں۔اسد درانی اور عام آدمی ککے کتاب لکھنے میں فرق ہے۔اسد درانی نے این اوسی نہیں لیا تھا۔ان کے خلاف انکوائری شروع ہوگئی ہے۔

اسد درانی کیخلاف انکوائری کا نتیجہ جل آجائے گا۔یونیفارم پہننے والا کوئی بھی فرشتہ نہیں بن جاتا۔۔فوج میں جوغلط کرتا ہے اس کیخلاف کاروائی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ برداشت پاکستان کیلئے کررہے ہیں،اور کرتے رہیں گے۔جس دن پاکستان پربات آئی برداشت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کروانا فوج کا کام نہیں ہے تاہم فوج کو اگر الیکشن میں فرائض سرانجام دینے کیلئے طلب کیا گیا توآئین کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔کیونکہ الیکشن کروانا فوج کاکام نہیں ہے۔