پیپلز پارٹی نے تیرھویں آئینی ترمیم کو جزوی طور پر مسترد کرتے ہوئے تقسیم کشمیر کی سازش قرار دے دیا

عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان

پیر جون 18:53

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر نے تیرھویں آئینی ترمیم کو جزوی طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے تقسیم کشمیر کے خلاف سازش قرار دے دیا ۔۔عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان پیپلز پارٹی کے دور کا متفقہ آئینی ترامیم کے بجائے فاروق حیدر خان نے اپنا مسودہ تیار کرواہا اس میں آزادکشمیر کی تمام سیاسی اور پارلیمانی جماعتوں کو نظرانداز کر دیا گیا ۔

اپوزیشن کے شدید تحفظات کے باوجود اکثریت کے بل بوتے پر بلڈوز کر دیا گیا اگر 75میں کوئی غلطی تھی تو پیپلز پارٹی نے جو مسودہ تیار کیا تھا اس میں وہ غلطی دور کردی گی تھی عبوری آئینی ایکٹ ذوالفقار علی بھٹو نے دیا اور آزادکشمیر کی مسلم قیادت کو اعتماد میںلیاحالانکہ فاروق حیدر ریاستی قیادت کو اعتماد میںلے کر تیرھویں ترمیم کو متفقہ طورپر کرواتے تو نام پھر بھی فاروق حیدر کا ہی لکھاجاتا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر نے گذشتہ روز مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہاکہ ہم کونسل میں آئینی ترامیم کے حق میں تھے اور بہت ساری باتیں ٹھیک ہیں ہم ان باتوں کے خلاف ہیں جو لینی کی دینی پڑ گیں ہیں اب ایک طرف سے اختیارات واپس لے کر دوسری طرف دے دیے گے ہیں اور وفاقی اداروں کو آزادکشمیر میں رسائی دے دی گی ہے کسی بھی ریاست کے تین ستون ہوتے ہیں قانون سازی صرف پارلمینٹ کا کام ہے مگر یہاں پر قانون سازی کا اختیار حکومت کو دے دیا گیا پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو کونسل کے اختیارات کم کرنے کی حامی تھی انہوں نے کہاکہ ممبران کونسل کی مدرعات کا ذکر تو کیا گیا ہے مگر ان کے رول کا کوئی ذکر نہیں کہ ان کا رول کیا ہو گا انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کے ساتھ سنئیر وزیر طارق فاروق کی سربراہی میں چار وزراء مذکرات کے لیے آئے اس ٹیم کو میں نے بھی اور اپوزیشن نے تمام تحفظات سے آگاہ کیا اور ہم ایک نتیجے پرپہنچ گے تھے مگرایک شق پر جب سنیئر وزیرسے کہاکہ آپ بات کر لیں مگر سنئیر وزیر نے واپس آکر بتایا کہ میں آپ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں مگر وزیراعظم نہیں مان رہے انہوں نے سوا ل کیا کہ پاکستان اور آزادکشمیر کے تعلقات اب کس طریقہ سے آگے بڑھیں گے ،