العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس، گلف اسٹیل کا 1980 کا معاہدہ جعلی تھا، واجد ضیا

معاہدہ کے مطابق طارق شفیع اور محمد حسین پارٹنرز تھے، معاہدے پر عملدرآمد سے پہلے ہی محمد حسین فوت ہوچکے تھے، معاہدے کے ساتھ خط تھا جس پر محمد حسین کے قانونی ورثا کے دستخط تھے، طارق شفیع نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ محمد حسین کے قانونی ورثا زندہ ہیں ،لیکن طارق شفیع نے ان کا رابطہ نمبر نہیں دیا، گواہ واجد ضیاء کا بیان عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس پر مزید جرح 11جون تک موخر کر د ی ، (آج) ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کرنے کا فیصلہ، فریقین کے وکلاء حتمی دلائل دیں گے

پیر جون 18:57

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس، گلف اسٹیل کا 1980 کا معاہدہ جعلی تھا، واجد ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے دوران جرح بتایاکہ گلف اسٹیل کا 1980 کا معاہدہ جعلی تھا،گلف اسٹیل ملز شئیرز فروخت معاہدہ کے مطابق طارق شفیع اور محمد حسین پارٹنرز تھے اور معاہدے پر عملدرآمد سے پہلے ہی محمد حسین فوت ہوچکے تھے، معاہدے کے ساتھ خط تھا جس پر محمد حسین کے قانونی ورثا کے دستخط تھے، طارق شفیع نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ محمد حسین کے قانونی ورثا زندہ ہیں لیکن طارق شفیع نے ان کا رابطہ نمبر نہیں دیا، عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس پر مزید جرح 11جون تک موخر کر دیاجبکہ (آج) منگل کو ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں فریقین کے وکلاء حتمی دلائل دیں گے۔

(جاری ہے)

پیر کو احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت ہوئی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریفرنس کی سماعت کی تو اس موقع پر نامزد ملزم نواز شریف کمرہ عدالت میں موجود رہے۔۔سماعت کے دوران نواز شریف وکیل خواجہ حارث نے مسلسل تیسری سماعت پر واجد ضیا پر جرح کی۔احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں واجد ضیا پر جرح مخر کردی اور لندن فلیٹس ریفرنس میں پراسیکیوشن سے حتمی دلائل کل طلب کرلیے۔

دوران سماعت نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے فاضل جج سے درخواست کی کہ آپ ایک کیس کا فیصلہ پہلے سناتے ہیں تو باقی 2 کیسز کیسے سن سکتے ہیں، اب تینوں ریفرنسز میں بحث ایک ساتھ رکھ لیں۔۔نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ تینوں ریفرنسز میں 60 فیصد بحث مشترک ہے، آپ کے مشترکہ فیصلہ سنانے پر حکمنامے کے خلاف کل درخواست دیں گے۔اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ ہم تینوں ریفرنسز میں الگ الگ جرح کریں گے، ایون فیلڈریفرنس میں ملزمان نے اپنے دفاع میں کچھ پیش نہیں کیا۔

وکیل صفائی خواجہ حارث نے اس موقع پر کہا کہ خدا کا خوف کریں، آپ نے ہمیں بیوقوف بنایا، ایون فیلڈ ریفرنس میں اپنا کیس کھول کر رکھ دیا ہے۔واجد ضیا نے جرح کے دوران کہا کہ گلف اسٹیل ملز شئیرز فروخت معاہدہ کے مطابق طارق شفیع اور محمد حسین پارٹنرز تھے اور معاہدے پر عملدرآمد سے پہلے ہی محمد حسین فوت ہوچکے تھے۔واجد ضیا نے کہاکہ معاہدے کے ساتھ خط تھا جس پر محمد حسین کے قانونی ورثا کے دستخط تھے، طارق شفیع نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ محمد حسین کے قانونی ورثا زندہ ہیں۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا 'طارق شفیع سے محمد حسین کے بیٹے شہزاد حسین کا ایڈریس پوچھا تھا لیکن انہوں نے رابطہ نمبر نہیں دیا جس کے بعد جے آئی ٹی نے پتہ لگانے کی کوشش کی لیکن شہزاد سے رابطہ نہیں ہوسکا۔واجد ضیا نے کہا کہ طارق شفیع سے شہزاد کا پوچھا گیا سوال جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ ہے جب کہ شہزاد حسین سے رابطے کی کوشش کی تفصیلات جے آئی ٹی رپورٹ میں نہیں ہے۔

31 مئی کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر دوران جرح واجد ضیا کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کو ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جو نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل مل کا شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر ظاہر کرے یا وہ مالی معاملات دیکھتے ہوں یا وہ العزیزیہ کے لیے بینکوں یا مالی اداروں سے ڈیل کرتے ہوں۔واجد ضیا کا کہنا تھا کہ 'دستاویزی ثبوت نہیں جو ظاہر کرے کہ نواز شریف نے العزیزیہ کی کسی دستاویز پر کبھی دستخط کیے ہوں۔