لاہور ہائیکورٹ نے بیلٹ پیپرز میں کسی بھی امیدوار کے حق میں ووٹ نہ دینے کی سہولت کی فراہمی کیلئے درخواست پر وفاقی حکومت اور الیکشن کمشن کو نوٹس جاری کر دیئے

پیر جون 19:33

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے بیلٹ پیپرز میں کسی بھی امیدوار کے حق میں ووٹ نہ دینے کی سہولت کی فراہمی کیلئے درخواست پر وفاقی حکومت اور الیکشن کمشن کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں ۔ جس میں کسی امید وار کے حق میں ووٹ نہ دینے کی سہولت نوٹا کا لفظ بیلٹ پیپرز میں شامل نہ کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا۔

درخواست گزار کے وکیل شیزار ذکا نے قانونی نکتہ اٹھایا کہ حق رائے دہی ہر شہری کا بنیادی اور جمہوری حق ہے۔ اس حق سے کسی کو محروم نہیں کیا جاسکتا۔ درخواست گزار کے وکیل نے نشاندہی کی کہ بیلٹ پیپرز میں کسی بھی امیدوار کے حق میں ووٹ نہ ڈالنے کی سہولت شامل نہیں ہے۔وکیل کے مطابق نوٹا کی سہولت یا آپشن نہ ہونے کی وجہ سے ووٹر کا حق رائے محدود ہوجاتا ہے اور ووٹر کو نہ چاہتے ہوئے بھی کسی نہ کسی امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے کیلئے مجبور ہوجاتا ہے۔

(جاری ہے)

وکیل نے نشاندہی کہ کہ بھارت سمیت کئی ممالک میں بیلٹ پیپر میں نوٹا کی سہولت دی گئی ہے۔ جس کے ذریعے اگر کسی امیدوار کو ووٹ نہ دینا چاہے تو وہ نوٹا پر نشان لگا دیتا ہے۔درخواست میں یہ نشاندہی کی گئی کہ بیلٹ پیپر پر نوٹا کی آپشن ہر ووٹر کا بنیادی جمہوری حق ہے، اس لیے الیکشن کمیشن کو بیلٹ پیپرز میں نوٹا کا آپشن شامل کرنے کا حکم دیا جائے۔ درخواست پر مزید کارروائی 12 جون کو ہوگی۔