افغانستان میں 60فیصد لڑکیاں سکول نہیں جاتی، یونیسف

سے 17 برس عمر کے 30 لاکھ 70 ہزار بچے جبکہ 20 لاکھ 70 ہزار لڑکیاں اسکول جانے سے گریزاں ہیں، رپورٹ تعلیم کی بدولت ہی جنگ، غربت اور بے روزگاری سے لڑا جا سکتا ہے اور اسی وجہ سے افغان حکومت نے 2018 کو تعلیم کا سال قرار دیا ہے

پیر جون 20:16

کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ طالبان کا زور ختم ہونے کے 16 برس بعد بھی افغانستان میں تاحال 3 میں سے ایک لڑکی اسکول جاتی ہے۔نیسف کی جاری کردہ اعداد وشمار میں کہا گیا کہ 7 سے 17 برس عمر کے 30 لاکھ 70 ہزار بچے جبکہ 20 لاکھ 70 ہزار لڑکیاں اسکول جانے سے گریزاں ہیں۔رپورٹ کے اعتبار سے 60 فیصد لڑکیاں اسکول نہیں جاتی۔

اس حوالے سے یونیسف کی رپورٹ کا دعوی ہے کہ ملک میں سیکیورٹی خدشات اور پرتشدد واقعات سمیت غربت اور صنفی امیتاز کے باعث بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پرتشدد واقعات کے باعث متعدد اسکول بند ہو چکے ہیں جس سے ملک میں لڑکیوں کے لیے اسکول جانے کے مزید امکانات ختم ہو گئے اور لاکھوں لڑکیوں نے کبھی اسکول میں قدم نہیں رکھا۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں اسکول نہ جانے والی 85 فیصد لڑکیوں کا تعلق پرتشدد واقعات کے حوالے سے بدنام علاقے قندھار، ہلمند، پتیکا، زابل، وردک اور ارزگن سے ہے۔۔افغانستان میں یونیسف کی ترجمان ایڈیل کھودر کا کہنا ہے کہ دیگر اسباب کے علاوہ استحصال، مسلح گروپ میں جبری شمولیت، تشدد کی وجہ سے بھی بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔انہوں زور دیا کہ جنگ زدہ ماحول کے اثر کو ذہنوں سے زائل کرنے کے لیے اسکول ایک بہترین مرکز ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکول روز مرہ زندگی میں ٹھہرا پیدا کرتا ہے جو انتشار کا شکار ملکوں کے لیے بہترین سرمایہ کاری ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ کم عمری کی شادیاں، فیملی اساتذہ کی کمی اور ناقص انفراسٹرکچر کے باعث بھی حالات مزید بدتر ہو رہے ہیں۔ تعلیم کا سالافغانستان کے وزیرتعلیم میرواعظ بلخی نے کہا ہے کہ متعدد وجوہات کے باعث بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں سماجی اداروں کی ترقی کے لیے بچوں کی تعلیم بہت ضروری ہے۔۔تعلیم کی بدولت ہی جنگ، غربت اور بے روزگاری سے لڑا جا سکتا ہے اور اسی وجہ سے افغان حکومت نے 2018 کو تعلیم کا سال قرار دیا ہے۔۔