اسلام آباد ہائی کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں سزا یافتہ جج کی اپیل پر دلائل سننے کے بعد آئندہ ہفتے تک کیلئے فیصلہ محفوظ کرلیا

پیر جون 20:16

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژنل بنچ نے سزا یافتہ جج راجہ خرم علی خان کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا،،عدالت عالیہ اسلام آباد نے طیبہ تشدد کیس میں سزا یافتہ جج کی اپیل پر دلائل سننے کے بعد آئندہ ہفتے تک کیلئے فیصلہ محفوظ کرلیا۔گزشتہ روز (پیر کو) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے سماعت کی۔

جب سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار سزا یافتہ جج اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،درخواست گزار کے وکیل رضوان عباسی ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ تھانہ آئی نائن پولیس کی جانب سے کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس کی ایف آئی آر کو غیر قانونی قرار دے کر خارج کیا جائے کیونکہ میڈیکل بورڈ میں کوئی تشدد ثابت نہیں ہوا،غیردانستہ طور پر اگر کسی بچے کو مارا جائے اس کی قانون میں کوئی سزا نہیں ہے،آئین کی شق تین سو اٹھائیس اے کے تحت دانستہ طور پر مارنے کی سزا موجود ہے۔

(جاری ہے)

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر غیر دانستہ طور پر سزا دی جائے تو ہر گھر میں موجود والدین سزا کے مرتکب ہیں۔راجہ رضوان عباسی ایڈووکیٹ کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس میں طیبہ خود درخواست دہندہ نہیں ہے اور نہ ہی دستخط اور انگوٹھے کا نشان موجود ہے،،پولیس کی جانب سے طیبہ کے مبینہ بیان کی تصدیق نہیں کروائی گئی جبکہ میڈیکل بورڈ بھی تشدد کے الزامات کی نفی کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق طیبہ کو زخم جلنے سے نہیں بلکہ گرنے سے آئے۔طیبہ نے جرح کے دوران اعتراف کیا کہ اسے تشدد کا جھوٹا الزام لگانے کو کہا گیا۔بعد ازاں عدالت نے دلائل سننے کے بعد سنگل رگنی بنچ کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دینے اور مقدمے کے اخراج کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا اور ہدایت جاری کی کہ فیصلہ آئندہ ہفتے سنایا جائے گا۔واضح رہے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر آئی ایٹ میں کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ کو ایک ایک سال کی سزا سنائی گئی تھی۔جس کے خلاف ڈویژنل بنچ میں سزا یافتہ جج نے اپیل دائر کی جبکہ دوسری جانب طیبہ کے والدین کی جانب سے دوران سماعت راجہ ظہور الحسن ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئی۔