تحریک انصاف کے قانونی ماہرین تیرویں آئینی ترمیم کے مسودے کا جائزہ لے رہی ہے، سید ذیشان حیدر

جلد قائد کشمیر بیرسٹرسلطان عوام الناس کو تحریک انصاف کے موقف اور حقیقی صورتحال سے آگاہ کریں گے، رکن مجلس عاملہ تحریک انصاف آزاد کشمیر

پیر جون 20:19

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کے مرکزی مجلس عاملہ کے رکن سید ذیشان حیدر نے کہا کہ تحریک انصاف کے قانونی ماہرین تیرویں آئینی ترمیم کے مسودے کا جائزہ لے رہی ہے۔جلد قائد کشمیر بیرسٹرسلطان عوام الناس کو تحریک انصاف کے موقف اور حقیقی صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ وفاقی کابینہ نے انتہائی اجلت میں بغیر مشاورت کے ایک مشکوک فیصلہ کیا۔

آزادکشمیر میں اس وقت ایک ہیجانی کیفیت ہے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک مرتبہ ایجنڈے سے ڈارپ ہونیکے بعد ، اپنی آئینی مدت ختم ہونے سے چند منٹ پہلے وفاقی کابینہ نے انتہائی اجلت میں بغیر مشاورت کے ایک مشکوک فیصلہ کیا، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی دورکے متفقہ ترمیمی مسودے کو نظر انداز کرنا قومی بددیانتی ہے اور پارلیمانی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

(جاری ہے)

اپوزیشن کے تحفظات کے باوجود اکثریت کی بنیاد پر آزدکشمیر اسمبلی میں انتہائی اجلت دیکھائی گئی۔ تحریک انصاف ہمیشہ سے کشمیر کونسل میں آئینی ترامیم کے حق میں رہی ہے اور اس سلسلہ میں جب وزیراعظم فاروق حیدر تعاون کیلئے قائد کشمیر بیرسٹرسلطان محمود کے پاس آئے تھے تو انہوں نے تعاون اور مشاورت کی یقین دھانی کروائی تھی۔ اس مسودے میں چند ٹھیک چیزیں بھی ہیں ہم ان باتوں کے خلاف ہیں جو لینی کی دینی پڑ گیں ہیں اب ایک طرف سے اختیارات واپس لے کر دوسری طرف دے دیے گے ہیں اور وفاقی اداروں کو آزادکشمیر میں رسائی دے دی گی ہے۔

آئینی ترامیم کے نام پر غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کیے گئے۔ذیشان حیدرنے مذید کہا کہ بیرسٹرسلطان محمود کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ اکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا محکمہ آزادکشمیر حکومت کا ہی اختیار ہے،یہ محکمہ 1979میں جنرل حیات کی حکومت میںمحکمہ سروسسز کے ایک نوٹیفیکشن کے تحت کشمیر کونسل کو دیا گیا جو اسی طرح کے نوٹیفیکشن کے زریعے واپس بھی کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں ن لیگ کے تقسیم کشمیر کے ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر اس آئینی ترامیم کے نام پر پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کیخلاف وزیراعظم آزادکشمیر فاروق حیدر کو استعمال کیا جائے گا۔